بھارتی حکومت کی ناکام سفارتکاری اور کمزور حکمت عملی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے معاشی ترقی اور علاقائی بالادستی کے دعوؤں کو عملی حقائق کے سامنے بے اثر کر دیا ہے۔ عالمی جریدے دی ٹیلی گراف کی رپورٹ نے مودی کے بدترین دورِ حکومت میں بھارت کی خارجہ محاذ پر بڑھتی ہوئی ناکامیوں کو نمایاں کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علاقائی کشیدگی سے سفارتی فائدہ، پاکستان نے امریکا میں مؤثر کردار منوا لیا، عالمی جریدے کا اعتراف
دی ٹیلی گراف کے مطابق بھارتی ادارہ جاتی حصص کی فروخت اور امریکہ کی جانب سے عائد پابندیوں کے نتیجے میں مودی حکومت کو واشنگٹن کے سامنے لچک دکھانا پڑی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت پر بھاری ٹیرف اور امریکی امیگریشن قوانین میں سختی نے خطے میں تسلط کے مودی کے دعوؤں کو شدید دھچکا پہنچایا۔
عالمی جریدے کے مطابق روس اور یوکرین کی جنگ میں پھنسے سینکڑوں بھارتی شہریوں کے معاملے پر بھی مودی حکومت مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی، جبکہ ایران نے گرفتار بھارتی بحری عملے تک بھارتی حکام کو رسائی دینے سے واضح انکار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ پیوٹن مذاکرات ناکام ہوئے تو بھارت پر مزید ٹیرف لگائیں گے، امریکا کی مودی سرکار کو وارننگ
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکی دباؤ کے باعث بھارت نے ایران کے ساتھ چاہ بہار بندرگاہ منصوبہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ دی ٹیلی گراف کے مطابق مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کے باعث بھارت کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ گزشتہ سال 116.1 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔
عالمی جریدے نے یورپ سے متعلق مودی اور بھارتی وزیر خارجہ کی متضاد پالیسیوں اور بیانات کو بھی اجاگر کیا۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کا خطے میں بالادستی کا بیانیہ زمینی حقائق کے برعکس محض دعوؤں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔














