پاکستان میں بیرونِ ملک روزگار کے خواہشمند شہریوں کے لیے حکومتِ پاکستان اور بیورو آف امیگریشن نے ورک ویزا پر جانے والے ورکرز کے لیے سافٹ اسکلز ٹریننگ اور پروٹیکٹر کلیئرنس کے طریقہ کار میں تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں۔ یورپی ممالک کے لیے سافٹ اسکلز ٹریننگ کی شرط یکم جنوری 2026 سے نافذ ہو چکی ہے، جبکہ خلیجی ممالک کے لیے یہ شرط یکم فروری 2026 سے لاگو ہونا تھی۔ تاہم اس میں توسیع کرتے ہوئے اسے یکم مارچ 2026 سے نافذ کردیا گیا ہے، جسے تاخیر نہیں بلکہ ایکسٹینشن قرار دیا گیا ہے۔
نئے ضابطوں کے تحت اب ہر ورکر کے لیے پروٹیکٹر کلیئرنس سے قبل آن لائن سافٹ اسکلز ٹریننگ مکمل کرنا اور اس کا ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ تربیت پاک سافٹ اسکلز ایپ اور سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے، جہاں ورکرز softskills.oec.gov.pk پر جا کر مفت آن لائن ٹریننگ مکمل کر سکتے ہیں اور ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں جو پروٹیکٹر کلیئرنس کے لیے ضروری ہوگا۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کی طرف سے خلیجی ممالک کے پیسٹی سائیڈز قانون میں سخت سزاؤں کی تجویز
بیورو آف امیگریشن نے پروٹیکٹر کلیئرنس کے حوالے سے ڈیجیٹل ای-پروٹیکٹر کو لازمی قرار دینے کے بجائے ایک متبادل حل فراہم کیا ہے، جس کے تحت ورکرز کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ یا تو آن لائن ای-پروٹیکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کریں یا پھر فزیکل اپیئرنس کے ذریعے پروٹیکٹڈ آفس جا کر روایتی پروٹیکٹر مہر لگوا لیں، اس طرح ای-پروٹیکٹر کو لازمی نہیں بلکہ آپشنل قرار دیا گیا ہے۔
سابق وائس چیئرمین پاکستان اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن محمد عدنان پراچہ نے کہا کہ ڈیجیٹل سہولتوں سے وقت اور اخراجات میں کمی ممکن ہے، تاہم اس پورے عمل میں ورکر کا کم از کم ایک دن کا وقت اور کچھ اضافی خرچ ضرور آئے گا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 2 برس میں بیرونِ ملک جانے کی لاگت میں 25 سے 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی بنیادی وجوہات پروسیسنگ میں تاخیر، غیر ضروری رکاوٹیں اور مقامی سطح پر کرپشن ہیں، جن کے باعث ورکرز پر اضافی مالی بوجھ پڑا۔
محمد عدنان پراچہ کے مطابق 2025 کے دوران مجموعی طور پر 7 لاکھ 62 ہزار پاکستانی بیرونِ ملک گئے، جن میں سے قریباً 6 لاکھ 30 ہزار افراد لیبر اور ڈرائیور کیٹیگریز سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وائٹ کالر جابز کے لیے مؤثر پلیٹ فارمز کی کمی ہے اور حکومت کو اس حوالے سے طویل المدتی پالیسیاں مرتب کرنا ہوں گی تاکہ نوجوانوں کے لیے بیرونِ ملک روزگار کے مواقع بہتر بنائے جا سکیں۔
مزید پڑھیں: ایک ویزے پر 6 خلیجی ممالک کا سفر ممکن، اہل کون ہوگا؟
انہوں نے مزید کہا کہ سافٹ اسکلز ٹریننگ سسٹم کو شفاف، کم خرچ اور کرپشن فری بنانا ناگزیر ہے، کیونکہ اگر اس نظام میں شفافیت نہ لائی گئی تو مستقبل میں کرپشن کے امکانات بڑھ سکتے ہیں اور ورکرز کے اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق ورک فورس پر کم سے کم مالی بوجھ ڈالنے، سرمایہ کاری کی لاگت کم رکھنے اور ون ونڈو سسٹم متعارف کرانے سے ریمیٹنسز میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔
حکام نے بیرونِ ملک جانے کے خواہشمند افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ روانگی سے قبل سافٹ اسکلز ٹریننگ مکمل کریں، اس کا سرٹیفکیٹ حاصل کریں اور پروٹیکٹر کلیئرنس (ای-پروٹیکٹر یا روایتی) مکمل کرنا یقینی بنائیں تاکہ ایئرپورٹ پر امیگریشن کلیئرنس کے دوران کسی قسم کی پریشانی یا رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔














