سعودی وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے پیسٹی سائیڈز قانون میں سزاؤں سے متعلق شق میں ترمیم کی تجویز پیش کر دی ہے، جس کے تحت ممنوعہ یا جعلی زرعی زہروں (پیسٹی سائیڈز) کی تیاری یا درآمد پر زیادہ سے زیادہ 5 سال قید اور ایک کروڑ سعودی ریال تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔
مجوزہ ضابطے کے مطابق اگر خلاف ورزی سنگین نہ ہو اور اس سے انسانوں، جانوروں، پودوں، ماحول یا عوامی صحت کو نمایاں نقصان نہ پہنچا ہو تو خلاف ورزی کرنے والے کو وارننگ دی جائے گی اور اصلاح کے لیے مہلت فراہم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب کے شہر القطیف میں اسٹریٹ فوڈ فیسٹیول کا آغاز
ڈرافٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ممنوعہ یا جعلی پیسٹی سائیڈ تیار یا درآمد کرنے والے افراد کے خلاف پبلک پراسیکیوشن تحقیقات کرے گی اور مقدمہ متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں سزا دوگنی کی جا سکتی ہے۔
مجوزہ قواعد کے تحت عوامی صحت سے متعلق پیسٹی سائیڈز کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لینے، جرمانے عائد کرنے اور ان کی منظوری کی ذمہ داری سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی پر ہوگی، جس کی توثیق اتھارٹی کے سربراہ یا ان کے مجاز نمائندے کریں گے۔
سزا کے نفاذ کے دوران وزارت اور متعلقہ اتھارٹی خلاف ورزی ختم کرنے کا حکم دے سکتی ہیں، جبکہ دوبارہ جرم کی صورت میں جرمانہ دوگنا ہوگا۔ اگر تین سال کے اندر دوبارہ خلاف ورزی ہو تو اسے تکرارِ جرم تصور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب کا ماحولیات کے شعبے میں نیا عالمی ریکارڈ، 31 جنگلی پودوں کے بیج کامیابی سے ذخیرہ
خلاف ورزی میں استعمال ہونے والا مواد کیمیکل فضلے کو ٹھکانے لگانے والی خصوصی کمپنی کے ذریعے تلف کیا جائے گا یا اصل ملک کو واپس بھیجا جائے گا، جس کا خرچ خلاف ورزی کرنے والا ادا کرے گا۔ جرمانے کے علاوہ متعلقہ ادارے کو زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کے لیے عارضی یا مستقل طور پر بند بھی کیا جا سکتا ہے۔
سزا کے فیصلے کے خلاف انتظامی عدالت میں مقررہ ضوابط کے مطابق اپیل دائر کی جا سکے گی۔













