سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس پر جسٹس محمد علی مظہر نے تفصیلی رائے جاری کی ہے، جس میں انہوں نے بھٹو کے ٹرائل کو آئین کے آرٹیکل 4 اور 9 کے تحت منصفانہ ٹرائل کے معیار پر پورا نہ اترنے والا قرار دیا۔
جسٹس مظہر نے کہا کہ بھٹو کے خلاف ٹرائل میں شفافیت اور قانونی طریقہ کار کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور محض وعدہ معاف گواہ کے بیان پر سزائے موت دینا قانون اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی تھا۔ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ ججوں کی ذاتی جانبداری اور پہلے سے قائم شدہ ذہن نے منصفانہ فیصلے کی بنیاد متاثر کی۔
مزید پڑھیں:شہید ذوالفقار علی بھٹو کی جدوجہد اور قیادت آج بھی مشعلِ راہ ہے، صدرِ مملکت آصف علی زرداری
جسٹس مظہر نے یہ بھی بتایا کہ پولیس نے بند شدہ کیس کو مارشل لا کے دوران بغیر قانونی جواز کے دوبارہ کھولا اور کیس کو سیشن کورٹ سے ہائیکورٹ منتقل کرنے کا فیصلہ بغیر نوٹس اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کیا گیا۔ بھٹو نے ٹرائل کے دوران بینچ کے سربراہ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا جسے تسلیم نہ کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرائل کے دوران سخت جملے اور طنزیہ ریمارکس عدالتی وقار اور غیر جانبداری کو متاثر کرتے رہے اور ججوں کی جانبداری نے انہیں آزادانہ اور منصفانہ فیصلہ کرنے کے قابل نہیں چھوڑا۔
جسٹس مظہر نے اضافی رائے میں سوال اٹھایا کہ غیر منصفانہ اور جانبدار ٹرائل پر کس نے یا کس کو توبہ کرنی تھی، اور آیا یہ ذمہ داری مرحوم ارواح، ججز یا ریفرنس پر رائے دینے والے بینچ کے ارکان پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رائے کسی حد تک ناکامی پر پشیمانی اور منصفانہ ٹرائل اور ڈیو پروسیس کے اعتراف کا مفہوم بھی ظاہر کرتی ہے۔
مزید پڑھیں:بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی پر فرحت اللہ بابر کی کتاب ’ She Walked into the Fire ‘ کی اشاعت
صدارتی ریفرنس کے سوال نمبر 4 پر اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، وہ غیر طے شدہ ہے۔ جسٹس مظہر نے اپنی رائے کا اختتام مرزا غالب کے اشعار سے کیا:
’کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا‘














