بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی پر فرحت اللہ بابر کی کتاب ’ She Walked into the Fire ‘ کی اشاعت

جمعہ 26 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی کے موقع پر لائٹ اسٹون پبلشرز کراچی نے ان کے سابق ترجمان اور سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کی یاد داشتوں پر مبنی کتاب  ’ She Walked into the Fire ‘ شائع کرنے کا اعلان کر دیا، جس میں بینظیر بھٹو کی سیاسی جدوجہد، جمہوری سوچ اور پس پردہ سفارتی کوششوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

لائٹ اسٹون پبلشرز کے مطابق یہ کتاب محترمہ بینظیر بھٹو کی زندگی اور سیاست کے کئی اہم اور کم معلوم پہلوؤں کو سامنے لاتی ہے۔ کتاب کے سرورق پر دیے گئے خلاصے کے مطابق اس کا سب سے اہم انکشاف واشنگٹن میں ہونے والے وہ خفیہ بیک چینل مذاکرات ہیں جو بینظیر بھٹو نے پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کے لیے کیے۔

یہ بھی پڑھیں:لوور میوزیم میں پانی کا رساؤ: مصری نوادرات کی سینکڑوں نایاب کتابیں متاثر

کتاب کے سرورق پر محترمہ بینظیر بھٹو کی رنگین تصویر، کتاب کا مختصر تعارف اور معروف قومی شخصیات کی آرا بھی شامل کی گئی ہیں۔ مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے کتاب کو ایک اہم تاریخی دستاویز قرار دیا ہے۔

بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل نے کتاب کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو کے ساتھ امید جڑی ہوئی تھی اور ان کے جانے سے ایک خلا پیدا ہوا جو کبھی پُر نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق فرحت اللہ بابر نے نہ صرف بینظیر بھٹو کے سیاسی سفر کو بیان کیا بلکہ ایک ایسی رہنما کی روح کو بھی اجاگر کیا جو قوم کے خواب اپنے ساتھ اٹھائے ہوئے تھی۔

این ڈی ایم کے رہنما اور سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے اسے ایک نڈر خاتون کو نڈر قلم کار کی جانب سے خراجِ تحسین قرار دیا اور کہا کہ یہ کتاب آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔

سابق وفاقی وزیر سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ یہ یادداشت بینظیر بھٹو کی غیر معمولی زندگی اور جمہوری جدوجہد کی حقیقی تصویر پیش کرتی ہے، جو تمام تر مشکلات کے باوجود ثابت قدم رہیں۔

سپریم کورٹ کے سابق جج اور پشاور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں محمد اجمل کے مطابق یہ کتاب جیل، جلاوطنی، اقتدار اور بالآخر شہادت تک بینظیر بھٹو کی جدوجہد کو مؤثر انداز میں بیان کرتی ہے، جو محض سیاسی نہیں بلکہ ایک اصولی اور تاریخی جدوجہد تھی۔

یہ بھی پڑھیں:2025: کیا کتابیں پڑھیں، کیا اخذ کیا؟

یہ کتاب محترمہ بینظیر بھٹو اور ان تمام کارکنانِ جمہوریت کے نام منسوب کی گئی ہے جنہوں نے کوڑے، قید، جلاوطنی اور تشدد برداشت کیا۔ کتاب میں کارساز (اکتوبر 2007) اور لیاقت باغ (دسمبر 2007) کے شہدا کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔

لائٹ اسٹون پبلشرز کے مطابق کتاب کی باضابطہ تقریبِ رونمائی اور اس کے ترجمے سے متعلق تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی، جبکہ کتاب جنوری 2026 کے پہلے ہفتے میں ملک بھر کے بک اسٹورز پر دستیاب ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا عظیم فٹبالر رونالڈو فلمی دنیا میں قدم رکھنے والے ہیں؟

پاکستان کاروباری مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

آیت اللہ خامنہ ای پر حملہ ہوا تو جہاد کا فتویٰ جاری کردیں گے، ایرانی پارلیمنٹ

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف کی مصری ہم منصب سے قاہرہ میں ملاقات

گرین لینڈ پر امریکی دباؤ مسترد، یورپ غنڈہ گردی کے آگے نہیں جھکے گا، فرانسیسی صدر میکرون

ویڈیو

جنید صفدر کی شادی میں فوٹو شوٹ کرنے والے فوٹو گرافر نے ساری تفصیلات بیان کردیں

شہر اقتدار میں 28ویں آئینی ترمیم کی چہ مگوئیاں، تھرتھلی مچ گئی

درختوں سے پولن الرجی اسلام آباد کے شہریوں کو کیسے متاثر کررہی ہے؟

کالم / تجزیہ

’میرے پاس کالا کوٹ نہیں تھا‘

کینیڈا کے انڈے

پی ٹی آئی کے تابوت میں آخری کیل