’ایسا نہ کریں، یہ موت کا کھیل ہے‘، پاکستان سے غیر قانونی یورپ جانے والوں پر کیا گزرتی ہے؟

پیر 2 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سردیوں کی لمبی رات تھی، قہقہوں کی آواز کبھی ایک، کبھی دوسرے کونے سے آ رہی تھی، مختلف ٹولیوں میں نوجوان اور بزرگ خوش گپیوں میں مصروف تھے، یوسف خان بھی دوستوں کے ہمراہ اپنے محلے کے کوئٹہ کیفے میں چائے پی رہا تھا، دوست یار ایک دوسرے کے ساتھ گپ شپ میں اچھے روزگار کی تلاش کے منصوبے شیئر کر رہے تھے، اس دوران ایک دوست اکرام نے کہاکہ پاکستان میں تو جو کام کرایا جاتا ہے اس حساب سے اجرت نہیں دی جاتی، البتہ بیرون ملک جیسا کہ یورپ میں آپ کچھ گھنٹے کام کرکے لاکھوں روپے کما لیتے ہیں۔

یوسف خان نے کہاکہ بیرون ملک جانے کے لیے تو لاکھوں روپے درکار ہوتے ہیں اور ہمارے پاس تو اتنے پیسے نہیں ہیں، ہم کیسے بیرون ملک جا سکتے ہیں، جس پر اکرام نے کہاکہ میرا ایک ایجنٹ جاننے والا ہے جو کہ صرف 50 ہزار روپے لے کر بیرون ملک یورپ بیج دیتا ہے لیکن اس کے لیے جو سفر کرنا ہوتا ہے وہ تھوڑا مشکل ہوتا ہے اور اس کے لیے پیدل زیادہ چلنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں: یورپ کا غیرقانونی سفر مزید 2 جانیں نگل گیا، ایران ترکیہ سرحد پر جاں بحق شہریوں کی لاشیں پاکستان پہنچ گئیں

اکرام نے بتایا کہ ایجنٹ جاننے والا ہے اور وہ ترکیہ میں رہائش، کھانا پینا اور نوکری سب دے گا اور کام کرنے کی اچھی تنخواہ بھی ملے گی۔

بہتر مستقبل کے لیے صرف 50 ہزار روپے سے یورپ کا سفر؟

یوسف خان رات گئے گھر آیا اور ساری رات یہ سوچتا رہا کہ 50 ہزار روپے کا بندوبست ہو سکتا ہے اور میں چونکہ جوان ہوں اور سفر کرنا میرے لیے مشکل نہیں ہے اور بہتر مستقبل کے لیے یہی ایک بہتر طریقہ ہے کہ میں اس ایجنٹ کو 50 ہزار روپے دے کر یورپ چلا جاؤں۔

صبح سویرے یوسف نے اپنے والد سے بات کی اور ان کو کہاکہ محلے میں رہنے والے دوست اکرام کا ایک ایجنٹ سے تعلق ہے اور وہ 50 ہزار روپے لے کر ترکیہ بھیج دیتا ہے اور اس طرح میں وہاں جا کر روزگار شروع کر سکتا ہوں۔

23 سالہ یوسف خان کا تعلق خیبرپختونخوا کے علاقے کرک سے ہے، اس نے 9ویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور پھر روزگار کی تلاش شروع کردی، اس کے والد نور عالم خان ایک ٹھیکیدار ہیں اور وہ گھروں کی تعمیر کا کام کرتے ہیں۔

’انہوں نے سوچا کہ میں نے تو اپنی زندگی اسی کام میں لگا دی ہے لیکن میرا بیٹا اگر بیرون ملک چلا جاتا ہے اور وہاں پر کوئی اچھی ملازمت شروع کر لیتا ہے تو وہ یقیناً ایک بڑا آدمی بن سکتا ہے۔ اس لیے انہوں نے 50 ہزار روپے کا بندوبست کرنا شروع کر دیا اور اپنے بیٹے یوسف سے کہاکہ وہ دوست اکرام کے ساتھ ایجنٹ سے ملے اور ترکیہ میں کیا کام کرنا ہو گا اس کی معلومات لے۔‘

یوسف کے یورپ جانے کی تیاریوں کے دوران 3 دوست اور بھی تیار ہو گئے اور انہوں نے بھی اپنے گھر والوں سے اجازت اور پیسے بھی لیے لیے۔

’سفر زیادہ ہے، اس لیے منزل تک پہنچنے میں زیادہ دن لگ سکتے ہیں‘

اس دوران ایجنٹ نے بتایا کہ سفر چونکہ زیادہ ہے، اس لیے دن لگ سکتے ہیں، پیدل بھی چلنا ہو گا، البتہ کھانا پینا، رہائش سب ملے گا، یوسف اور دوستوں نے سوچا کہ ہر قسم کی سفری مشکلات کا سامنا تو ہم نوجوان باآسانی کر لیں گے اس لیے انہوں نے ایجنٹ کو پیسے جمع کروا کر سفر کی تیاری شروع کردی۔

یوسف خان نے بتایا کہ ہم 4 دوستوں نے اسلام آباد سے اپنے سفر کا آغاز کیا، پہلے کوئٹہ پہنچے تو وہاں سینکڑوں لڑکے موجود تھے جو ہمارے ساتھ سفر کررہے تھے، کوئٹہ سے سفر کرکے بلوچستان کے صحرائوں تک پہنچے اور پیدل سفر کا آغاز ہوگیا، 3 دن تک پیدل سفر کیا، اسی دوران متعدد لڑکے واپس چلے گئے، ہمارے پاس کچھ کھانے اور پینے کی چیزیں دستیاب نہیں تھیں اور گھنٹوں پیدل چلنے کے باوجود ہم پاکستان کی حدود سے باہر نہ نکل سکے۔

اس سفر میں ہمیں دو جگہ چوروں نے پکڑ لیا اور ہمارے پاس جو کوئی رقم تھی وہ انہوں نے ہم سے لے لی، جن کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے ان کو چور مارتے بھی تھے اور ہمارے ساتھ جانے والے 3 لڑکوں کی پیدل سفر، بھوک پیاس اور چوروں کی مار کی وجہ سے موت بھی واقع ہو گئی تھی۔

یوسف خان نے بتایا کہ بھوک اور پیاس کے باوجود متعدد دن پیدل چلنے کے بعد بالآخر ہم پاکستان کی حدود سے نکل کر ایران تک پہنچ گئے اور پاکستان والے ایجنٹ نے ایران والے جس ایجنٹ کے پاس بھیجا تھا وہ ہمیں مل گیا، تو ہم لوگوں نے سکھ کا سانس لیا کہ اب مشکلات ختم ہو گئی ہیں۔

’ایک ایجنٹ سے دوسرے تک پہنچنے پر پھر رقم کا تقاضا‘

’پھر ایک دن تو ہمیں ایجنٹ نے اپنے پاس رکھا اور کھانا وغیرہ دیا، چونکہ ہمارے پاس پیسے ختم ہو گئے تھے تاہم اگلے ہی روز اس نے ہم سے ایک مرتبہ پھر سے پیسوں کا تقاضا شروع کر دیا اور کہاکہ اپنے گھر والوں سے پیسے منگوا کر دو۔‘

انہوں نے بتایا کہ بیشتر دوستوں کے پاس پیسے ختم ہو چکے تھے چوروں نے موبائل فون تک چھین لیے تھے، اس لیے اس موقع پر اور بھی لڑکوں نے واپسی کا سفر شروع کردیا۔

یوسف خان نے کہاکہ چند لڑکوں نے ایران والے ایجنٹ سے فرار اختیار کی اور آگے سفر کرنے کی کوشش کی تاہم پیسوں کے بغیر سفر کرنا ناممکن ہو گیا تھا، اس لیے میں نے بھی اپنے 3 دوستوں کے ہمراہ ایران کے شہر زردان میں موجود ڈیپورٹ سینٹر میں اپنے آپ کو پیش کردیا۔

یوسف خان کے مطابق ڈی پورٹ سینٹر والوں نے کہاکہ چونکہ یہاں پر بہت سے پاکستانی قید ہیں اس لیے ہم آپ کو یہاں پر نہیں رکھ سکتے، پھر ایران میں ہی ہمیں ایک ڈرائیور نے کہاکہ وہ ہم سے 30 ہزار روپے لے گا اور بارڈر کراس کرا دے گا تاہم بارڈر پر ہمیں ایرانی سیکیورٹی اہلکاروں نے پکڑ لیا اور وہاں سے ہمیں اسی ڈی پورٹ سینٹر منتقل کردیا۔

’12 روز تک ایران کے ڈی پورٹ سینٹر میں رکھنے کے بعد بلوچستان جیل بھیج دیا گیا‘

’ایران کے ڈی پورٹ سینٹر میں ہمیں 12 دن رکھا گیا اور پھر ایران سے ہمیں پاکستان میں بلوچستان کی ایک جیل میں بھیج دیا گیا۔ اس جیل میں ہمیں ایف آئی اے نے 7 روز تک رکھا اور پھر یہاں پر بھی ہم سے بھاری رقم کا تقاضا کیا گیا جسے ادا کرنے کے بعد ہمیں بلوچستان کی جیل سے رہائی ملی اور پھر ہم کوئٹہ پہنچے اور وہاں سے بس میں بیٹھ کر اسلام آباد آگئے۔‘

یوسف خان نے بتایا کہ اس سفر میں میرا ساڑھے 3 لاکھ روپے کا خرچ آیا ہے اور اب بھی میرا دوست اکرام مجھ سے پیسوں کا تقاضا کر رہا ہے کہ آپ کے کچھ واجبات ہیں وہ ایجنٹ کو ادا کرو۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے پاکستان آ کر موبائل فون کی ریپیئرنگ کا کام شروع کر دیا ہے، سفر کے دوران گھر والوں نے بہت پریشانی کا سامنا کیا ہے تاہم گھر پہنچنے پر شکر ادا کیا ہے۔

غیر قانونی طریقے سے یورپ یا کسی اور ملک کا سفر کرنے والوں کے لیے یوسف خان نے کہاکہ ایسا ہرگز نہ کریں، یہ موت کا کھیل ہے، وہ خوش نصیب تھا کہ وہ زندہ بچ کر واپس آگیا البتہ متعدد لوگ ایسے ہیں کہ جن کی جانیں اس سفر میں چلی گئیں اور جو زندہ بچ بھی گئے انہوں نے شدید ترین مشکلات کا سامنا کیا۔

2009 میں غیرقانونی طریقے سے یورپ کے سفر کا آغاز کرنے والے شہری کی کہانی

ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ محمد عمران نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے بھی 2009 میں اپنے 12 دوستوں کے ہمراہ یورپ کے سفر کا آغاز کیا تھا، چونکہ پیسوں کی کمی تھی اس لیے غیر قانونی سفر کا انتخاب کیا، اس سفر کے لیے اس وقت ایک لاکھ روپے تک کا خرچ آیا تھا۔

محمد عمران نے بتایا کہ 12 دوستوں میں سے 4 دوستوں کی طبعیت پاکستان میں ہی خراب ہو گئی تھی، پھر ایران پہنچتے ہی تفتان کے قریب انتہائی بگڑ گئی جس وجہ سے میں ان کے ساتھ ہوٹل میں ہی رہ گیا، زیادہ پیدل سفر کرنے اور بھوک پیاس کے باعث مجھے آگے کا سفر مشکل لگ رہا تھا۔

’غیرقانونی سفر کرنے والوں کو راستے میں مار بھی دیا جاتا ہے‘

’وہاں تفتان میں لوگوں نے بتایا کہ آگے غیر قانونی سفر کرنے والوں کو تشدد کرکے مار دیتے ہیں، یا پھر جسم کے اعضا کان، یا ناک کاٹ دیتے ہیں، یہ باتیں سن کر میں نے بھی واپسی کا فیصلہ کیا اور ہمارے جو 7 لوگ آگے گئے تھے معلوم نہیں کہ وہ اب کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا نہیں، ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔‘

مزید پڑھیں: افغان باشندے غیر قانونی راستوں سے یورپ جانے کے لیے پاکستان کا استعمال کیسے کرتے ہیں؟

محمد عمران نے کہاکہ پاکستان میں نوجوان لالچ کے باعث ایجنٹس کو پیسے دے کر غیر قانونی سفر کا آغاز کرتے ہیں، لیکن یہ سفر انتہائی مشکل ہوتا ہے، نوجوانوں کے ماں باپ، بہن، بھائی ان کے پیچھے بہت پریشان رہتے ہیں کہ پتا نہیں کہاں ہے کہاں جائے گا، سفر بھی مشکل ہوتا ہے اور وہاں پہنچنا بھی مشکل ہوتا ہے، اس لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ایسا سفر کرنا کوئی عقلمندی نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دہشتگردی کے بڑھتے واقعات پر شاہد آفریدی کا شدید ردعمل

عازمینِ حج کے لیے اہم اطلاع، سعودی ویزہ بائیو میٹرک کے آخری 2 دن باقی

پی ایس ایل کی نئی فرنچائز حیدرآباد نے اپنے کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کردیا

سانحہ اسلام آباد کے بعد لاہور میں سکیورٹی ہائی الرٹ، سی سی پی او لاہور نے خصوصی ہدایات جاری کردیں

روسی صدر پیوٹن کی جانب سے اسلام آباد خودکش حملے پر صدر مملکت اور وزیر اعظم کو تعزیتی خطوط ارسال

ویڈیو

اسلام آباد امام بار گاہ میں خود کش دھماکا بھارت کی سرپرستی میں کیا گیا، وزیر مملکت برائے داخلہ کی میڈیا سے گفتگو

امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟

لاہور میں بسنت کے تہوار پر تاریخی جشن

کالم / تجزیہ

پاکستان کا پیچا!

’کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو‘

مغربی تہذیب کا انہدام!