امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کی امید ظاہر کی ہے جبکہ ایرانی سپریم لیڈر نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے حملہ کیا تو پورے خطے میں جنگ چھڑ جائے گی۔
ایرانی رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ بالکل ایسا کہہ سکتے ہیں۔ ’ہم نے دنیا کے سب سے بڑے اور طاقتور جنگی جہاز وہاں بھیجے ہیں، بہت قریب ہیں، چند دنوں میں وہاں پہنچ جائیں گے۔‘
ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ امریکا کوئی معاہدہ کرلے گا۔ ’اگر معاہدہ نہیں ہوتا تو ہمیں پتا چل جائے گا کہ وہ درست تھے یا نہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی پروازیں متاثر، عالمی ایئرلائنز الرٹ
انہوں نے کہا کہ اگر ایران کی حکومت سے بات چیت کی جائے تو ممکنہ طور پر یہ ایک قابل قبول معاہدہ ہو گا۔
صدر ٹرمپ نے ہفتے کی رات ایران کے قریب امریکی بحری جہازوں کی موجودگی پر بات کی اور ماضی میں ایران میں پرامن احتجاجی مظاہرین کو قتل کرنے پر فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔
اس پر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ اگر امریکا جنگ شروع کرتا ہے تو پورے خطے میں جنگ پھیل جائے گی، انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر جنگ شروع کی تو یہ ایک ’علاقائی جنگ‘ بن جائے گی۔
And, once the regional war begins the united state of America that hosts and/or is imperialism will find it ain't as powerful as it deems itself to be…. ww3 will end imperialism faster than you think.
——–
🇮🇷 🇺🇸 The Leader of Iran in a meeting with a large number of… pic.twitter.com/sbyCC621Sy— Faramak Zahraie (@FaramakZahraie) February 2, 2026
ایرانی سپریم لیڈر نے امریکی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر اس نے جنگ شروع کی تو اس کا اثر پورے خطے پر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ شروع نہیں کرتا، لیکن اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے تو ایرانی قوم جواب دے گی۔
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ ایران پر ان کا حتمی فیصلہ کیا ہو گا تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔
ایران کے جنرل امیر حاتمی نے ایک پر عزم لہجے میں کہا کہ ایران کے فوجی اور دفاعی تیاری اس وقت انتہائی مستحکم ہیں اور وہ خطے میں دشمن کی تمام حرکات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ
ایران کے پارلیمنٹ میں بھی جنگی لہجہ دیکھا گیا، جہاں اسپیکر نے کہا کہ یورپی یونین کی فوجیں اب ایران کی نظر میں دہشت گرد گروہ بن چکی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسی دوران ایران کے دارالحکومت تہران میں 2 دھماکے ہوئے، جن میں ایک دھماکہ بندر عباس میں ہوا، جس میں ایک بچی ہلاک اور 14 افراد زخمی ہوئے جبکہ دوسرے دھماکے میں 5 افراد کی ہلاکت کی خبر موصول ہوئی ہے۔













