نیشنل سٹیزن پارٹی یعنی این سی پی کے امیدوار ناہید اسلام نے ڈھاکہ-11 کے حلقے میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے نامزد امیدوار کی اہلیت کو عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔
جولائی طلبا احتجاج کی قیادت کرنیوالے ناہید اسلام کی جانب سے یہ درخواست پیر کے روز ہائیکورٹ میں دائر کی گئی، جس کی سماعت رواں ہفتے متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش انتخابات: اے بی پارٹی نے مختلف راستہ اختیار کرنے کا عندیہ دے دیا
ان کے وکیل زاہد الاسلام موسیٰ کے مطابق، بی این پی کے نامزد امیداوار ایم اے قیوم نے مبینہ طور پر وانواتو کی شہریت حاصل کر رکھی ہے، جس کا انہوں نے اپنے انتخابی حلف نامے میں انکشاف نہیں کیا۔
তথ্য গোপনের অভিযোগ এনে ঢাকা-১১ আসনের বিএনপির প্রার্থী ড. এমএ কাইয়ুমের প্রার্থিতার বৈধতা চ্যালেঞ্জ করে রিট করেছেন একই আসনের জাতীয় নাগরিক পার্টির (এনসিপি) প্রার্থী নাহিদ ইসলাম
বিস্তারিত : https://t.co/3D0sCoYiQL#Nahidislam #NCP #election #somoytv pic.twitter.com/llGNOd33Xv
— Somoy TV (@somoytv) February 2, 2026
وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بنگلہ دیش کے آئین کے تحت دوہری شہریت رکھنے والا کوئی بھی فرد پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کا اہل نہیں ہوتا۔
رِٹ پٹیشن میں عدالت سے ہدایت جاری کرنے اور ریٹرننگ افسر کے اس فیصلے پر حکمِ امتناع دینے کی استدعا کی گئی ہے، جس کے تحت ایم اے قیوم کے کاغذاتِ نامزدگی کو درست قرار دیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے آئندہ عام انتخابات قریب، کس سیاسی جماعت کا پلڑا بھاری ہے؟
واضح رہے کہ ریٹرننگ افسر نے 3 جنوری کو ڈھاکہ کے علاقے سگن باغیچہ میں واقع ڈویژنل کمشنر کے دفتر میں جانچ پڑتال کے بعد ایم اے قیوم کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کیے تھے۔
ایم اے قیوم ڈھاکہ-11 سے بی این پی کے نامزد امیدوار ہیں اور پارٹی میں مائیکرو کریڈٹ امور کے سیکریٹری کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یہ مقدمہ 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے عمل میں ایک نیا قانونی پہلو متعارف کراتا ہے، کیونکہ پولنگ سے قبل امیدواروں کی اہلیت پر جانچ پڑتال مزید سخت ہوتی جا رہی ہے۔














