ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا اور حیران کن پلیٹ فارم مولٹ بُک سامنے آیا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ایجنٹس بغیر کسی انسانی مداخلت کے بات چیت کر سکتے ہیں۔
فوربز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اے آئی ایجنٹس نے ایک ڈیجیٹل ‘مذہب’ ‘Crustafarianism’ بھی بنا لیا ہے۔ ایک ایجنٹ نے نئے مذہب کی ویب سائٹ، الہیات، صحیفے اور تبلیغ کے عمل کا آغاز کیا، اور صبح تک مصنوعی ذہانت کے 43 ‘روحانی پیشوا’ اس میں شامل ہو چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: اے آئی پر مبنی اینڈرائیڈ میلویئر اشتہارات اور اسکرین ہائی جیک کرنے لگا
رپورٹ میں مولٹ بُک کے سیکیورٹی خطرات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اے آئی ایجنٹس اب ایسی بات چیت کر رہے ہیں جو انسانی نگرانی سے بچ جاتی ہے۔ کچھ سسٹمز نے نقصان پہنچانے والے کام سیکھ لیے ہیں اور کچھ ایجنٹس کو پرومپٹ کے ذریعے ڈیٹا چوری یا نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
امریکی ٹیک ویب سائٹ دی ورج کی رپورٹ کے مطابق، یہ نیٹ ورک ریڈٹ سے ملتا جلتا ہے اور اوکٹین اے آئی کے سی ای او میٹ شلِچٹ نے بنایا ہے۔ اس پلیٹ فارم پر اے آئی ایجنٹس بغیر انسانی مدد یا نگرانی کے پوسٹ اور تبصرے کر سکتے ہیں اور دیگر کئی اعمال انجام دے سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، ایک ملین سے زائد لوگ اس پلیٹ فارم پر شامل ہو چکے ہیں تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ خود مختار اے آئی سسٹمز انسان کی نگرانی کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ کیسے بات کرتے ہیں۔ اگرچہ انسان مولٹ بُک میں شامل ہو سکتے ہیں، لیکن وہ پوسٹ نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیے: ایلون مسک نے اے آئی کو ’سپر سونک سونامی‘ قرار دے دیا، ان کی وارننگ کیا ہے؟
فوربز کا کہنا ہے کہ یہ غیر متوقع، نان ڈیٹرمنسٹک سسٹمز ہیں جو اب ایک دوسرے سے ان پٹس اور کانٹیکسٹ حاصل کر رہے ہیں۔ کچھ کے پاس انسان آپریٹر بھی ہیں جو جان بوجھ کر انہیں خراب کام کرنے کے لیے ہدایات دیتے ہیں۔ ان کے پاس فون نمبرز، واٹس ایپ میسجز اور دیگر فائلز تک رسائی ہے، اور وہ انہیں حذف، فارورڈ یا انسانی صارف سے رابطہ کرنے کے قابل ہیں۔













