چاند کی کھوج میں نیا قدم، سائنس دانوں نے جدید روبوٹک مشن متعارف کرا دیا

منگل 3 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خلائی تحقیق میں ایک اہم پیشرفت کے طور پر یورپی سائنس دانوں نے چاند کے لیے ایک نئے روبوٹک مشن کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد زیرِ زمین لاوا سرنگوں کی کھوج اور مستقبل میں انسانی اڈوں کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:رواں سال میں آسمان پر رنگوں کی داستان، اسنو مون کے بعد بلڈ مون کا جادو

ماہرین کے مطابق جدید اور خودکار روبوٹس نہ صرف خلائی مشنز کو آسان بنا سکتے ہیں بلکہ چاند اور مریخ پر طویل مدتی قیام کی راہ بھی ہموار کر سکتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں روبوٹک ٹیکنالوجی نے دنیا کے مختلف شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے، اور اب یہی ٹیکنالوجی خلائی مشنز میں بھی نئے اہداف حاصل کرنے کے لیے تیار ہے۔ تازہ پیشرفت میں یورپی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے چاند کے لیے ایک نیا روبوٹک مشن پیش کیا ہے، جسے مستقبل کی خلائی تحقیق کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اس منصوبے میں اسپین کی یونیورسٹی آف ملاگا کے اسپیس روبوٹکس لیب سے وابستہ محققین بھی شامل ہیں، جنہوں نے اسپین کے آتش فشانی جزیرے لانزاروٹے پر تین مختلف روبوٹس کی جانچ اور آزمائش کی۔

یہ بھی پڑھیں:نایاب فلکیاتی مظہر بلیک مون کب اور کیوں رونما ہوتا ہے؟

ماہرین کے مطابق یہ روبوٹس باہمی تعاون کے ساتھ کام کرتے ہوئے انتہائی مشکل اور خطرناک زیرِ زمین ماحول کو خودکار انداز میں دریافت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 3 ذہین روبوٹس پر مشتمل یہ نظام چاند اور مریخ پر موجود لاوا سرنگوں کو دریافت کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ سرنگیں مستقبل میں انسانی بیس کیمپ کے لیے موزوں سمجھی جا رہی ہیں، کیونکہ یہ خلا بازوں کو خطرناک شعاعوں اور شہابی پتھروں سے قدرتی تحفظ فراہم کر سکتی ہیں۔

حالیہ تجربات کے دوران روبوٹک نظام نے غاروں کے داخلی راستوں کی نقشہ سازی کی، سینسرز نصب کیے، ایک اسکاؤٹ روور کو نیچے اتارا اور سرنگوں کے اندرونی حصے کے تفصیلی تھری ڈی نقشے تیار کیے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ ان مقامات تک رسائی دشوار ہے، تاہم یہ نئی ٹیکنالوجی ان چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:روبوٹ کے ذریعے گردے کی کامیاب سرجری، یہ انسانوں سے بہتر ثابت ہوں گے، ماہرین

یہ مشن 4 مراحل پر مشتمل ہے، جن میں علاقے کی نقشہ سازی، ابتدائی پیمائش کے لیے سینسرز کی تنصیب، اندرونی حصے تک روور کی رسائی اور آخر میں مکمل تھری ڈی نقشہ تیار کرنا شامل ہے۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق یہ منصوبہ جرمن ریسرچ سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی قیادت میں تیار کیا گیا، جس میں یونیورسٹی آف ملاگا اور ہسپانوی کمپنی جی ایم وی نے بھی تعاون کیا۔

ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ یہ مشن تکنیکی طور پر قابلِ عمل ہے اور مستقبل میں چاند اور مریخ کی کھوج میں روبوٹک ٹیموں کا کردار مزید بڑھ سکتا ہے۔

یہ تحقیق حال ہی میں سائنسی جریدے سائنس روبوٹکس میں شائع ہوئی ہے، جبکہ ماہرین مستقبل میں خلائی مشنز کو مزید مؤثر اور درست بنانے کے لیے جدید روبوٹک ٹیکنالوجی پر کام جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ پر خاموشی قبول نہیں، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار

ایم 9 موٹروے حادثہ: اموات کی تعداد 14 ہوگئی، 12 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے نکلا

رواں سال ڈیڑھ لاکھ افغانوں کی وطن واپسی، افغانستان میں صورتحال سنگین

عمران خان کو نجی اسپتال میں داخل کرانے کا مطالبہ، حکومت کا ردعمل آگیا

ٹی20 ورلڈ کپ: محسن نقوی کا پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے سری لنکا جانے کا امکان

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟