دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان استنبول میں منعقد ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ پاکستان کی نمائندگی کے حوالے سے فیصلہ ایک یا دو دن کے اندر متوقع ہے، جبکہ مذاکرات میں شرکت کے لیے بیک ڈور کوششیں پاکستان اور ترکی کی جانب سے کی گئی ہیں۔
🚨🇮🇷IRAN ISSUES A HARSH WARNING TO THE USA 🇺🇸
The Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) declared: if the United States launches an attack from the Persian Gulf, the response will be immediate and without any warning whatsoever. “Qatari-style” diplomacy is officially dead.… pic.twitter.com/ZkOgEFbkRT— IRAN Revolution Token (@IRAN_DigitRes) February 3, 2026
ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات رواں ہفتے استنبول، ترکی میں ہو رہے ہیں اور اس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری اور علاقائی امور پر بات چیت کو از سر نو آگے بڑھانا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات جمعے کو دوبارہ شروع ہوں گے، جو مئی 2023 سے تعطل کا شکار تھے۔
یہ بھی پڑھیں:کیا واشنگٹن اور تہران واقعی ٹکراؤ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
علاقائی عہدیداروں نے بتایا کہ مذاکرات میں سعودی عرب، قطر، عمان، پاکستان، مصر اور متحدہ عرب امارات کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ ایرانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات سے متعلق نہ پُرامید ہے اور نہ ہی مایوس، تاہم یہ بات چیت ظاہر کرے گی کہ آیا امریکہ سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتا ہے یا نہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ پاکستان کی نمائندگی کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد کیا جائے گا، اور استنبول میں مذاکرات میں پاکستان کی موجودگی علاقائی اور عالمی امن کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔
ایرانی ذرائع نے واضح کیا کہ دفاعی تیاریوں پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی اور ایران ہر طرح کی صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔














