ورلڈ کینسر ڈے: آگاہی، علاج اور ہماری ذمہ داری
ہر سال 4 فروری کو دنیا بھر میں کینسر سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد محض اعداد و شمار بیان کرنا نہیں، بلکہ اس موذی مرض کے خلاف انفرادی اور اجتماعی سطح پر شعور بیدار کرنا ہے۔ رواں برس اس دن کا مرکزی خیال “گیپ ختم کریں” (Close the Care Gap) ہے، جو کینسر کی تشخیص اور علاج میں حائل سماجی و معاشی رکاوٹوں کو دور کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
کینسر: خوف نہیں، احتیاط کی ضرورت
کینسر کا نام سنتے ہی ذہن میں موت کا خوف طاری ہو جاتا ہے، لیکن طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس مرض کی تشخیص پہلی اسٹیج پر ہو جائے تو علاج کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں کینسر میں اضافہ تشویشناک ہے، جس کی بڑی وجوہات میں تمباکو نوشی، غیر متوازن غذا، ورزش کی کمی اور ماحولیاتی آلودگی شامل ہیں۔
روک تھام کیسے ممکن ہے؟
کینسر سے بچاؤ کے لیے طرزِ زندگی میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ ماہرین درج ذیل اقدامات پر زور دیتے ہیں:
- تمباکو سے دوری: پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر کی سب سے بڑی وجہ سگریٹ اور چھالیہ کا استعمال ہے۔
- متوازن غذا: تازہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھائیں اور پروسیسڈ فوڈ (مصنوعی خوراک) سے پرہیز کریں۔
- باقاعدہ معائنہ: خواتین کے لیے چھاتی کے کینسر اور مردوں کے لیے دیگر اسکریننگ ٹیسٹ زندگی بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
معاشرتی رویے اور حکومت کا کردار
کینسر کے مریض کو صرف ادویات کی نہیں بلکہ ہمدردی اور حوصلے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس مرض کو چھپانے کا رحجان تشخیص میں تاخیر کا سبب بنتا ہے۔ حکومت اور نجی اداروں کو چاہیے کہ وہ کینسر کے مہنگے علاج کو عام آدمی کی پہنچ میں لانے کے لیے مزید مراکزِ صحت اور رعایتی سہولیات فراہم کریں۔
ورلڈ کینسر ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کینسر ناقابلِ شکست نہیں ہے۔ اگر ہم احتیاط کو اپنا شعار بنا لیں اور بروقت تشخیص کی اہمیت کو سمجھیں، تو ہزاروں قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ آج کا دن عہد کرنے کا دن ہے کہ ہم ایک صحت مند اور کینسر سے پاک معاشرے کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔
اسی دن کی مناسبت سے کینسر جیسے موذی مرض کا مقابلہ کرنے والی اسلام آباد کی خاتون صحافی زینب علی اتمان خیل کی کہانی سنیں۔













