جب کھیل ضمیر کے سامنے ہار مان لیتا ہے

بدھ 4 فروری 2026
author image

عبید الرحمان عباسی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کا بھارت کے خلاف ٹی20 ورلڈ کپ میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کسی جذباتی یا وقتی ردِعمل کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک اصولی اور اخلاقی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب عالمی کرکٹ طاقت، اقربا پروری اور مالی مفادات کے زیرِ اثر آ جائے، تو کسی نہ کسی کو کھڑے ہو کر’نہیں’ کہنا پڑتا ہے، چاہے اس کی قیمت مالی نقصان یا دباؤ کی صورت میں ہی کیوں نہ ادا کرنا پڑے۔

تاریخ گواہ ہے کہ قومیں وقتی فائدے نہیں بلکہ اصولی قربانیوں سے زندہ رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا یہ مؤقف اسکور بورڈ سے زیادہ تاریخ کے صفحات پر اہمیت رکھتا ہے۔

کیا اسپورٹس بائیکاٹ کوئی نئی بات ہے؟

اس سوال کا جواب تاریخ چیخ چیخ کر دیتی ہے۔ 1960 اور 70 کی دہائی میں جنوبی افریقہ کو اپارتھائیڈ (نسلی امتیاز) کی پالیسیوں کے باعث کرکٹ، فٹبال، اولمپکس سمیت تقریباً ہر عالمی کھیل سے باہر کر دیا گیا تھا۔ اس وقت بھی یہی دلیل دی جاتی رہی کہ “کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے”، مگر دنیا نے واضح فیصلہ کیا کہ انسانی وقار، کھیل سے کہیں بڑا ہے۔

اسی طرح 2022 کے بعد روسی ٹیموں پر فٹبال، اولمپکس، ٹینس اور دیگر کھیلوں میں پابندیاں عائد کی گئیں۔ فیفا اور آئی او سی نے اگرچہ کھل کر سیاسی مؤقف اختیار نہیں کیا، مگر عملی طور پر کھیل کو سیاسی فیصلوں کے تابع کر دیا گیا۔

سوال یہ ہے کہ اگر روس پر پابندیاں “درست” تھیں، تو پاکستان کا اصولی انکار ’غلط‘ کیوں؟

اسرائیل کا خاموش بائیکاٹ اور دوہرا معیار

اسپورٹس میں خاموش بائیکاٹ کی ایک اور مثال اسرائیل سے متعلق ہے۔ معروف صحافی سید کوثر نقوی کے مطابق اگرچہ اسرائیل پر کوئی مکمل عالمی بائیکاٹ عائد نہیں ہوا، مگر کئی عرب اور مسلم ممالک نے دہائیوں تک اسرائیلی ٹیموں کے خلاف مقابلے کھیلنے سے انکار کیا۔ حتیٰ کہ انفرادی سطح پر بھی کھلاڑیوں نے میچ کھیلنے سے گریز کیا، لیکن کسی عالمی ادارے نے انہیں “غیر اخلاقی” قرار نہیں دیا۔

تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے اصولی فیصلے کو نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟

یہاں سب سے بڑی منافقت کھل کر سامنے آتی ہے۔ بھارت نے سیاسی بنیادوں پر پاکستان کے خلاف دوطرفہ کرکٹ برسوں سے بند کر رکھی ہے۔ اس کے باوجود نہ آئی سی سی نے کوئی جرمانہ عائد کیا، نہ پوائنٹس کٹوتی ہوئی، اور نہ ہی کسی ضابطے کی خلاف ورزی کا شور مچایا گیا۔

مگر آج جب پاکستان ایک اخلاقی مؤقف اختیار کرتا ہے، تو آئی سی سی کو اچانک ’قانون‘ اور ’قواعد‘ یاد آ جاتے ہیں۔

آئی سی سی کا اصل مسئلہ: اصول نہیں، پیسہ

حقیقت یہ ہے کہ آئی سی سی کی آمدنی بھارتی مارکیٹ سے جڑی ہوئی ہے۔ براڈکاسٹنگ رائٹس اور اسپانسرشپ میں بھارت فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ بی سی سی آئی کی مرضی کے بغیر، مبالغہ نہیں تو حقیقتاً، پتا بھی نہیں ہلتا۔

اسی لیے ناقدین کے مطابق آئی سی سی ایک غیر جانبدار عالمی ادارہ نہیں رہا، بلکہ بھارتی مفادات کی فرنچائز بنتا جا رہا ہے، جہاں اصول ثانوی اور منافع اولین ترجیح ہے۔

کیا پاکستان کو ڈٹ جانا چاہیے؟

سپورٹس کے ماہرین اور سینئر صحافیوں کی رائے میں پاکستان کو اس فیصلے پر قائم رہنا چاہیے، چاہے اس کی قیمت کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ معروف سینئر صحافی وسیم عباسی کے مطابق یہ وہ مقام ہے جہاں قوموں کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ ممکن ہے جرمانہ ہو، مالی نقصان اٹھانا پڑے یا دباؤ بڑھے، مگر کوئی نہ کوئی تو اقربا پروری کے نظام کے سامنے کھڑا ہو کر طاقتور کو “نہیں” کہے۔

اگر آج پاکستان پیچھے ہٹ گیا، تو کل ہر چھوٹی قوم خاموش ہو جائے گی۔ تاریخ میچ نہیں، مؤقف یاد رکھتی ہے۔

وقتی ہار یا دائمی جیت؟

نیشنل پریس کلب کے سیکریٹری جنرل اور اسلام آباد کے معروف صحافی اصف بشیر چوہدری کے مطابق ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف نہ کھیلنے کے فیصلے نے قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ نقصانات ضرور ہوں گے، مگر بعض اوقات ہارنا ہی اصل جیت بن جاتا ہے، بشرطیکہ ضمیر زندہ ہو۔

اگر پاکستان اپنے مؤقف پر ڈٹا رہا تو وہ ایک میچ نہیں، بلکہ آئی سی سی کے نیپوٹزم، دوہرے معیار اور طاقت کے نشے کو بے نقاب کر دے گا۔ یہ فیصلہ اسکور بورڈ پر نہیں، تاریخ کے صفحوں پر لکھا جائے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سینئر قانون دان کالم نگار اور فری لانس جرنلسٹ ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ایس ایل 11، کراچی کنگز نے معین علی کو اسکواڈ میں شامل کرلیا

قازقستان کا پاکستان سے 50 ہزار ٹن آلو منگوانے کا ارادہ

میں اور بھائی والد سے ملنے آنا چاہتے ہیں لیکن حکومت ویزا نہیں دے رہی، عمران خان کے بیٹےکا شکوہ

وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر ملاقات ضرور ہوگی، وقت اور جگہ کا تعین تاحال نہیں ہوا، رانا ثنااللہ

ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گا، وزیراعظم شہباز شریف

ویڈیو

پورا پاکستان بھی اگر بسنت فیسٹیول منانے لاہور آجائے تو ہم ٹریفک کنٹرول کر لیں گے ۔سی ٹی او لاہور اطہر وحید

پاکستان اور امریکا ایران مذاکرات، پی ٹی آئی احتجاج اور بھارت میچ بائیکاٹ کی اپ ڈیٹ

وی ایکسکلوسیو: دہشتگردی کے خلاف لڑائی کسی فرد یا ادارے کی نہیں پوری قوم کی جنگ ہے، انوارالحق کاکڑ

کالم / تجزیہ

فاطمہ بھٹو کس قیامت سے گزریں؟

حادثے سے بڑا سانحہ

اگر جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا؟