پاکستان سمیت دنیا بھر میں 5 فروری کو بھارتی تسلط کے خلاف یومِ یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا جائے گا۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مسئلہ کشمیر پر اصولی اور جرات مندانہ مؤقف کو کشمیری عوام کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔
گزشتہ برس یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مظفرآباد کے دورے کے دوران کشمیر پر پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا تھا۔ انہوں نے بھارت کو واضح اور دوٹوک پیغام دیا تھا کہ پاکستان کسی بھی قسم کی عددی یا عسکری برتری کے دباؤ میں نہیں آئے گا اور مسئلہ کشمیر پر اپنے اصولی مؤقف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کشمیرپر تاریخی کردار،جوکہا وہ سچ کردکھایا
پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال 5 فروری کو کشمیر پر بھارتی تسلط کیخلاف یوم یکجہتی کشمیرمنایا جاتا ہے
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک سال قبل بھی یوم یکجہتی کشمیر پرمظفرآباد میں کشمیر پراپنا عزم مصمم… pic.twitter.com/denDDTCAwW
— PTV News (@PTVNewsOfficial) February 4, 2026
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس موقع پر کہا تھا کہ پاکستان کشمیر کے معاملے پر مزید دس جنگیں لڑنے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔ ان کا یہ بیان نہ صرف کشمیری عوام کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوا بلکہ دشمن کے لیے ایک واضح انتباہ بھی تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 5 فروری یومِ یکجہتی کشمیر، ’طاقت کے زور پر کیے گئے قبضے کبھی عوامی جذبوں کو شکست نہیں دے سکتے‘
آزاد کشمیر کے شہریوں نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال یومِ یکجہتی کشمیر پر سپہ سالار کی مظفرآباد آمد سے لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کشمیری عوام کے حوصلے بلند ہوئے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرات مندانہ قیادت قابلِ فخر ہے اور مسئلہ کشمیر پر ان کا واضح اور اصولی مؤقف مظلوم کشمیریوں کے حوصلوں کو نئی جِلا بخش رہا ہے۔
شہریوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل نے جس عزم کا اظہار گزشتہ سال کیا تھا، اسے عملی طور پر مئی 2025 میں پورا کر کے دکھایا۔ مسلح افواج کی شاندار کامیابی سے نہ صرف قومی وقار میں اضافہ ہوا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا نام بھی روشن ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ’وہ دن قریب ہے جب کشمیر بنے گا پاکستان‘، مولانا طاہر اشرفی کا کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی
مسئلہ کشمیر پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دوٹوک اور غیر مبہم مؤقف کشمیری عوام کے لیے امید، اعتماد اور حوصلے کی علامت بن چکا ہے۔














