امریکا نے کانکو میں چین کے اثرورسوخ کم کرنے کے لیے بڑی سرمایہ کاری کی تیاری کی ہے۔
انگلو سوئس ملٹی نیشنل کمپنی گلینکور نے جمہوریہ کانگو میں اپنے 2 بڑے کاپر اور کوبالٹ منصوبوں میں 40 فیصد حصص فروخت کرنے پر اصولی اتفاق کرلیا ہے۔ یہ حصص امریکی حکومت کی حمایت یافتہ سرمایہ کاری گروپ اورین کریٹیکل منرل کنسورشیم کو فروخت کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عسکری، سیاسی طاقت کی دوڑ، چین اور امریکا میں سے کون آگے؟
یہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اہم معدنیات تک رسائی یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہا ہے، جو جدید مینوفیکچرنگ، قابل تجدید توانائی اور قومی دفاعی سپلائی چین کے لیے نہایت ضروری سمجھی جاتی ہیں۔
گلینکور کے مطابق کمپنی نے جمہوریہ کانگو میں واقع متاندا مائننگ اور کاموٹو کاپر کمپنی کے اثاثوں میں حصص کی ممکنہ فروخت کے لیے ایک نان بائنڈنگ معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں منصوبوں کی مجموعی انٹرپرائز ویلیو تقریباً 9 ارب ڈالر لگائی گئی ہے، جبکہ گلینکور آپریشنل کنٹرول اپنے پاس ہی رکھے گی۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو گیری نیگل کے مطابق اس شراکت داری کے ذریعے امریکی حکومت اور نجی شعبے کی اہم معدنیات کی فراہمی سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی، جن میں کوبالٹ اور کاپر شامل ہیں۔
اورین کریٹیکل منرل کنسورشیم اکتوبر 2025 میں قائم کیا گیا تھا، جس کی قیادت اورین ریسورس پارٹنرز کر رہا ہے اور اس میں امریکی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن بھی شریک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا جنگیں ختم کرانے کا دعویٰ7، کتنی حقیقت، کتنا فسانہ؟
اس گروپ کا قیام اسی سال امریکا کی ثالثی میں روانڈا اور جمہوریہ کانگو کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے بعد عمل میں آیا تھا، جس کا مقصد مشرقی کانگو میں دہائیوں سے جاری تشدد کا خاتمہ کرنا تھا۔
اس امن معاہدے میں ایک علاقائی معاشی فریم ورک بھی شامل ہے، جو امریکا کی حمایت یافتہ سرمایہ کاری کو کانگو کے کوبالٹ، کولٹن اور دیگر اہم معدنیات کے شعبے سے جوڑتا ہے۔ مغربی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اس کے ذریعے اس شعبے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنا چاہتا ہے۔
امریکی ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یہ مجوزہ شراکت داری امریکا اور جمہوریہ کانگو کے درمیان معاشی تعلقات کو مضبوط بنا سکتی ہے، اہم معدنیات کی قابل اعتماد فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتی ہے اور کانگو میں معاشی ترقی و استحکام کو فروغ دے گی۔
واضح رہے کہ گلینکور گزشتہ 2 دہائیوں سے جمہوریہ کانگو میں سرگرم ہے اور کوبالٹ پیدا کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی ریاست میں ایک بڑی صنعتی مائننگ کمپنی سمجھی جاتی ہے۔ تاہم کمپنی کو کانگو کے کاپر بیلٹ میں آلودگی سے متعلق الزامات کا سامنا بھی رہا ہے، جن میں فضلے کے پانی اور کولویزی کے قریب آلودگی کے خدشات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کی درخواست پر چینی صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کا فون سن لیا
اس کے علاوہ گلینکور امریکا میں رشوت کے الزامات میں جرم قبول کرچکی ہے اور جمہوریہ کانگو میں اسے تقریباً 900 ملین ڈالر کے ٹیکس جرمانے کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔
یاد رہے کہ چین اس وقت کوبالٹ، کولٹن اور دیگر اہم معدنیات کی عالمی سپلائی چین میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ امریکی حمایت یافتہ گروپ کی کانگو کے بڑے منصوبوں میں شمولیت سے امریکا کو براہِ راست رسائی ملے گی، جس سے چین کا اثر و رسوخ کمزور ہو سکتا ہے۔
یہ معاہدہ امریکا کو اپنی صنعت، الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریوں اور دفاعی شعبے کے لیے معدنیات کا نسبتاً محفوظ ذریعہ فراہم کرے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکا چین پر انحصار کم کر سکے گا، جو چین کے لیے معاشی اور اسٹریٹجک نقصان ہوگا۔
چین پہلے ہی کانگو میں بڑے پیمانے پر مائننگ منصوبوں میں سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ اگر امریکا اور اس کے اتحادی یہاں مضبوط ہوتے گئے تو چین کے لیے نئے منصوبے حاصل کرنا یا موجودہ اثر برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
یہ معاہدہ صرف کاروباری نہیں بلکہ اسٹریٹجک نوعیت کا بھی ہے۔ کانگو میں امریکی موجودگی بڑھنے سے افریقہ میں چین کی سفارتی اور سیاسی برتری کو دھچکا لگ سکتا ہے۔














