آگ، لاپرواہی اور خاموش ریاست

بدھ 4 فروری 2026
author image

انعم ملک

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گُل پلازہ کراچی میں لگنے والی ہولناک آگ محض ایک عمارت کو نہیں جلا گئی، بلکہ اس نے پاکستان میں ریاستی نگرانی، شہری تحفظ اور حکمرانی کے پورے نظام کو بے نقاب کر دیا۔ یہ سانحہ کوئی اچانک حادثہ نہیں تھا، بلکہ برسوں کی غفلت، غیر قانونی تعمیرات، کمزور قوانین اور مجرمانہ خاموشی کا منطقی نتیجہ تھا۔

کراچی جیسے بڑے شہر میں، جہاں روزانہ لاکھوں افراد کمرشل پلازوں، دفاتر اور مارکیٹوں کا رخ کرتے ہیں، گُل پلازہ ایک معروف تجارتی مرکز تھا۔ اس عمارت میں سینکڑوں دکانیں، درجنوں دفاتر اور بڑی تعداد میں ورکرز موجود تھے۔ آگ بھڑکنے کے بعد لوگوں کو بچنے کا موقع اس لیے نہ مل سکا کہ عمارت میں نہ مؤثر فائر الارم تھا، نہ خودکار سپرنکلر سسٹم، اور نہ ہی واضح و کھلے ایمرجنسی ایگزٹس۔ چند ہی لمحوں میں دھواں پھیل گیا اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتی چلی گئیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ آگ کیوں لگی، بلکہ یہ ہے کہ اتنی بڑی عمارت کو بغیر فائر سیفٹی انتظامات کے چلنے کی اجازت کس نے دی؟ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کراچی میونسپل کارپوریشن، سول ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ ادارے اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ اگر قوانین موجود تھے تو ان پر عمل کیوں نہ ہوا، اور اگر قوانین ناکافی تھے تو انہیں بروقت بہتر کیوں نہ بنایا گیا؟

یہ مسئلہ صرف کراچی تک محدود نہیں۔ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد، جو قانون، نظم و ضبط اور ریاستی رِٹ کی علامت سمجھا جاتا ہے، خود ایک خاموش خطرے کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ ریڈ زون اور بلیو ایریا میں قائم بلند و بالا پلازے، سرکاری و نجی دفاتر، کالجز اور تعلیمی ادارے روزانہ ہزاروں افراد کو اپنی جانب کھینچتے ہیں، مگر ان عمارتوں میں فائر ایگزٹس، ایمرجنسی سیڑھیاں، فائر الارم اور ریسکیو پلان اکثر صرف فائلوں تک محدود نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر دارالحکومت ہی محفوظ نہیں تو باقی ملک کا کیا حال ہوگا؟

گُل پلازہ کے سانحے کے بعد سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ تاحال کوئی ٹھوس اور بنیادی اقدام سامنے نہیں آیا۔ نہ کوئی جامع قومی فائر سیفٹی قانون نافذ ہوا، نہ ملک گیر سطح پر عمارتوں کا آڈٹ شروع کیا گیا، اور نہ ہی ذمہ داروں کو مثال بنا کر سزا دی گئی۔ یہ وہی طرزِ عمل ہے جو ماضی میں بلدیہ فیکٹری جیسے سانحات کے بعد بھی دیکھا گیا — چند دن کا شور، چند وعدے، اور پھر اجتماعی فراموشی۔

اب وقت آ گیا ہے کہ جذباتی بیانات سے آگے بڑھا جائے۔ ہر کمرشل، تعلیمی اور بلند رہائشی عمارت کے لیے فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد ناگزیر ہے۔ قومی سطح پر فوری فائر سیفٹی آڈٹ کیا جائے، غیر محفوظ عمارتوں کو سیل کیا جائے، اور ذمہ دار افسران کے خلاف محض معطلی نہیں بلکہ فوجداری کارروائی کی جائے۔ فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کو جدید آلات، مؤثر تربیت اور فوری رسپانس کی صلاحیت دی جائے، جبکہ عوامی سطح پر فائر ڈرلز اور بنیادی تربیت کو لازمی بنایا جائے۔

گُل پلازہ کے متاثرین محض اعداد و شمار نہیں تھے۔ وہ مزدور تھے، دکاندار تھے، طلبہ تھے اور اپنے خاندانوں کے کفیل تھے۔ اگر اب بھی سنجیدگی نہ دکھائی گئی تو یہ سانحات بار بار دہراتے رہیں گے، اور ہم ہر بار ایک نئی خبر، ایک نیا کالم اور ایک نئی قبر کے ساتھ خود کو تسلی دیتے رہیں گے۔

سوال آج بھی وہی ہے:
آخر کب تک معصوم انسانی جانوں کا یہ ضیاع جاری رہے گا؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ایس ایل 11، کراچی کنگز نے معین علی کو اسکواڈ میں شامل کرلیا

قازقستان کا پاکستان سے 50 ہزار ٹن آلو منگوانے کا ارادہ

میں اور بھائی والد سے ملنے آنا چاہتے ہیں لیکن حکومت ویزا نہیں دے رہی، عمران خان کے بیٹےکا شکوہ

وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر ملاقات ضرور ہوگی، وقت اور جگہ کا تعین تاحال نہیں ہوا، رانا ثنااللہ

ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گا، وزیراعظم شہباز شریف

ویڈیو

پورا پاکستان بھی اگر بسنت فیسٹیول منانے لاہور آجائے تو ہم ٹریفک کنٹرول کر لیں گے ۔سی ٹی او لاہور اطہر وحید

پاکستان اور امریکا ایران مذاکرات، پی ٹی آئی احتجاج اور بھارت میچ بائیکاٹ کی اپ ڈیٹ

وی ایکسکلوسیو: دہشتگردی کے خلاف لڑائی کسی فرد یا ادارے کی نہیں پوری قوم کی جنگ ہے، انوارالحق کاکڑ

کالم / تجزیہ

فاطمہ بھٹو کس قیامت سے گزریں؟

حادثے سے بڑا سانحہ

اگر جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا؟