سعودی ولی عہد کا متوقع دورہ پاکستان: تعلقات میں فیصلہ کن موڑ، دفاعی و معاشی اشتراک مزید مضبوط ہوگا

بدھ 4 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات دفاعی تعاون سے آگے بڑھتے ہوئے جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کر رہے ہیں جس کے واضح اثرات تجارت، سرمایہ کاری، افرادی قوت اور معاشی استحکام کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وی ورلڈ: پاک سعودی تعلقات عصری اور تاریخی دونوں اعتبار سے انتہائی اہم ہیں، ڈاکٹر طلحہ

سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق کہا کہنا ہے کہ پاک سعودی دفاعی معاہدے نے دوطرفہ تعلقات کو نئی گہرائی دی ہے اور مختلف اہم شعبوں میں تعاون غیر معمولی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔

ولی عہد کے متوقع دورے سے تعلقات کو فیصلہ کن موڑ

ریاض میں پاکستانی سفارت خانے میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے سفیر پاکستان نے بتایا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے متوقع دورہ پاکستان کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک فیصلہ کن موڑ سمجھا جا رہا ہے جو سیاسی اعتماد کے ساتھ ساتھ معاشی اور دفاعی اشتراک کو مزید مضبوط کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب عالم اسلام میں استحکام، ترقی اور مشترکہ مفادات کے لیے ایک دوسرے کے قدرتی شراکت دار ہیں۔

تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے عملی مرحلے میں

وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران طے پانے والے سرمایہ کاری اور تجارتی معاہدے اب عملی مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں جن کے مثبت نتائج پاکستانی معیشت میں بتدریج ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

سفیر احمد فاروق کے مطابق آئندہ ایک ماہ میں آئی ٹی، زراعت اور ٹیکسٹائل سمیت 8 شعبوں میں مزید معاہدوں کی تکمیل متوقع ہے جس کا ہدف سعودی منڈی میں پاکستانی مصنوعات اور خدمات کی رسائی کو وسعت دینا ہے۔

سفیر احمد فاروق کے مطابق آئندہ ایک ماہ میں آئی ٹی، زراعت اور ٹیکسٹائل سمیت 8 شعبوں میں مزید معاہدوں کی تکمیل متوقع ہے جن کا ہدف سعودی منڈی میں پاکستانی مصنوعات اور خدمات کی رسائی کو وسعت دینا ہے۔

پاکستانی برآمدات اور خدمات میں نمایاں اضافہ

اقتصادی اشاریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کو پاکستانی برآمدات پہلی بار سالانہ 720 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جبکہ خدمات کے شعبے میں برآمدات 590 ملین ڈالر کی سطح عبور کر چکی ہیں۔

ان کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی شراکت داری محض بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ ٹھوس بنیادوں پر آگے بڑھ رہی ہے۔

افرادی قوت اور ترسیلات زر میں اہم کردار

افرادی قوت کے حوالے سے سفیر پاکستان نے کہا کہ صرف سنہ 2025 کے دوران تقریباً 5 لاکھ پاکستانی روزگار کے لیے سعودی عرب آئے جبکہ مملکت میں مقیم تقریباً 30 لاکھ پاکستانی مجموعی طور پر پاکستان کی ترسیلات زر کا قریب 25 فیصد حصہ فراہم کر رہے ہیں جو ملکی معیشت کے لیے ایک مضبوط سہارا ہے۔

سفارت خانہ برادری کی فلاح و بہبود میں فعال

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانہ پاکستانی برادری کے مسائل کے حل اور فلاح وبہبود کے لیے پوری سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہا ہے اور سفارت خانے کے تمام شعبے پاکستانی شہریوں کو مؤثر رہنمائی اور سہولت فراہم کرنے میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نگاہے یا رسول اللہ نگاہے

معروف PUBG کنٹینٹ کریئیٹر فاروق احمد کا انتقال کیسے ہوا؟ موت کی وجہ سامنے آگئی

اسحاق ڈار کی برطانوی قومی سلامتی مشیر سے ملاقات، خطے کی سیکیورٹی اور پاک برطانیہ تعاون پر تبادلہ خیال

انڈونیشیا: بدعنوانی کے خلاف ہزاروں افراد پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ گئے، پولیس کے ساتھ جھڑپیں

بچوں کے لیے فیس بک، انسٹاگرام پر بڑا کریک ڈاؤن، روزانہ صرف 2 گھنٹے استعمال کی اجازت

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ