پاکستان کا اقوامِ متحدہ سے بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ، سلامتی کونسل سے فوری اقدام کی اپیل

جمعرات 5 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) سے مطالبہ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو سلامتی کونسل کے پابندیوں کے نظام کے تحت دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لیے فوری کارروائی کی جائے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے فہرست میں شامل کرنے کی درخواست پہلے ہی زیرِ غور ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے دہشتگردی کے باعث بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ کونسل 1267 پابندیوں کے نظام کے تحت بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لیے جلد فیصلہ کرے گی۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے خلاف سرگرم بی ایل اے کو اسرائیل اور بھارت کی حمایت حاصل، حقیقت آشکار

سفیر عاصم افتخار نے بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں کی مذمت پر سلامتی کونسل کے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو عالمی برادری کی جانب سے یکجہتی اور حمایت کا بھرپور اظہار ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور سرحد پار بیٹھے سرپرستوں، مالی معاونین اور سہولتکاروں کو بے نقاب کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری قیمت ادا کی ہے، جہاں 90 ہزار سے زائد جانوں کا نقصان اور بھاری معاشی خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ ان کے مطابق القاعدہ کی مرکزی قیادت کے خاتمے اور داعش کے علاقائی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں میں بھی پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا۔

سفیر عاصم افتخار نے خبردار کیا کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خطے کی سیکیورٹی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ بیرونی سرپرستی اور غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے دہشتگرد گروہ، جن میں فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی اور فتنہ الہندوستان بی ایل اے اور اس کی مجید بریگیڈ شامل ہیں، دوبارہ متحرک ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ گروہ افغان سرزمین سے بلا خوف و خطر کارروائیاں کر رہے ہیں اور پاکستان کے مشرقی ہمسائے کی حمایت سے ملک کے اندر خونریز حملوں میں ملوث ہیں۔ سفیر کے مطابق حالیہ دنوں میں بی ایل اے نے بلوچستان میں متعدد مقامات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن کے نتیجے میں 48 بے گناہ شہری شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائی میں 145 دہشتگرد مارے گئے۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کو بھارت کی سرپرستی حاصل، بھرپور کارروائی ہونی چاہیے، بیرسٹر گوہر

انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال امریکی محکمہ خارجہ بھی بی ایل اے اور اس کی مجید بریگیڈ کو دہشتگرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ سفیر عاصم افتخار نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد چھوڑے گئے جدید ہتھیاروں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان ہتھیاروں کا دہشتگردوں کے ہاتھ لگنا پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے دہشتگرد گروہوں کی پشت پناہی کرنے والے عناصر کے احتساب کا مطالبہ بھی کیا۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف بلاامتیاز، اجتماعی اور مربوط حکمتِ عملی اپنائی جائے اور انسدادِ دہشتگردی کے معاملے میں دوہرے معیار ترک کیے جائیں۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کی بھی مذمت کی اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عوام کی جائز جدوجہد کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔

سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ رواں سال عالمی انسدادِ دہشتگردی حکمتِ عملی کے نویں جائزے کے موقع پر عالمی برادری کو ایک بار پھر مشترکہ عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے کثیرالجہتی اور اجتماعی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سرمد کھوسٹ کی فلم ’لالی‘ ، پاکستان کی پہلی مکمل فیچر فلم نے عالمی سینما میں دھوم مچا دی

بنگلہ دیش نے بھارتی اسپائس جیٹ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا

ایپسٹین کے مشیروں کیخلاف مقدمہ تصفیے پر منتج، ساڑھے 3 کروڑ ڈالر کی ادائیگی پر آمادگی

مودی سرکار کے بھارت میں اقلیتیں مسلسل احساسِ محرومی اور امتیازی سلوک کا شکار

عماد وسیم کی دھمکیاں منظر عام پر، سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق نے واٹس ایپ چیٹس شیئر دیں

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب