پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں نے بلوچستان میں کامیابی کے ساتھ آپریشن ردّ الفتنہ-1 مکمل کیا، جس کے تحت بھارتی معاونت یافتہ دہشتگرد عناصر کے خلاف ہدف شدہ، تیز اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں کی گئیں۔ یہ دہشتگرد معصوم شہریوں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا کر بلوچستان میں امن و ترقی کو خراب کرنے کی سازش کر رہے تھے۔
آپریشن کا آغاز 29 جنوری 2026 کو پنجگور اور ہرنائی کے نواحی علاقوں میں ہوا، جب قابل اعتماد اور تصدیق شدہ انٹیلی جنس میں دہشتگرد عناصر کی موجودگی کی اطلاع ملی، جو مقامی عوام کے لیے فوری خطرہ تھے۔ اس مرحلے میں دہشتگرد ٹھکانوں پر کارروائیاں کی گئیں، جس کے نتیجے میں بھارتی پروکسی نیٹ ورکس سے وابستہ 41 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بعد ازاں، پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ریاست مخالف حملوں کو ناکام بنانے کے لیے مزید تیز اور ہدفی کارروائیاں جاری رکھی۔ متعدد علاقوں میں دہشتگردوں کے سلیپر سیلز کو تباہ کرنے کے لیے مسلسل کلیئرنس اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔
مزید پڑھیں:سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
آپریشن ردّ الفتنہ-1 کے دوران، پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں باہمی ہم آہنگی اور منصوبہ بندی کے تحت کارروائیاں کرتی رہیں۔ اس منظم کارروائی کے نتیجے میں 216 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جس سے دہشتگرد نیٹ ورکس کی قیادت، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور آپریشنل صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا۔
اس دوران غیر ملکی ہتھیار، گولہ بارود، دھماکا خیز مواد اور دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا، جس کے ابتدائی تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ دہشتگردوں کو بیرونی سطح پر مالی، فنی اور لاجسٹک معاونت فراہم کی جا رہی تھی۔
Security forces have successfully concluded Operation Radd-ul-Fitna-1 in Baluchistan.
Pakistan Zindabad.@AmirSaeedAbbasi @KulAalam #Pakistan pic.twitter.com/gXkiylSF3t— Media Talk (@mediatalk922) February 5, 2026
بدقسمتی سے، آپریشن کے دوران 36 معصوم شہری، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں، شہید ہوئے، جبکہ 22 بہادر سیکیورٹی اہلکار نے پاکستان کی سرحدی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ آئی ایس پی آر نے ان قربانیوں کو پاکستانی فوج کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیت، عزم اور خدمت کے اعلیٰ روایات کی عکاسی قرار دیا اور شہدا کے اہلخانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
پاک افواج نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں حکومت پاکستان کے نیشنل ایکشن پلان کے تحت جاری رہیں گی اور دہشتگردانہ خطرات کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی آپریشنز جاری رہیں گے۔
آپریشن ردّ الفتنہ-1 بلوچستان کے عوام اور پاکستان کی امن پسندی، اتحاد اور ترقی پسندی کا مظہر ہے، اور یہ ثابت کرتا ہے کہ ملک و قوم ہمیشہ تشدد کے بجائے امن، انتشار کے بجائے اتحاد اور تباہی کے بجائے ترقی کو ترجیح دیتی ہے۔
صدر زرداری کا بلوچستان میں آپریشن ردّ الفتنہ-1 کی کامیابی پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان میں آپریشن ردّ الفتنہ-1 کی کامیاب تکمیل پر پاک فوج، سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ صدر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش ناکام بنی۔
صدر زرداری نے کہا کہ ملک سے بیرونی پشت پناہی میں ہونے والی دہشتگردی کا مکمل خاتمہ حکومت اور ریاست کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ انٹیلی جنس پر مبنی مربوط کارروائیوں کے ذریعے دہشتگرد نیٹ ورکس کی قیادت اور آپریشنل صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے خلاف سرگرم بی ایل اے کو اسرائیل اور بھارت کی حمایت حاصل، حقیقت آشکار
صدرِ مملکت نے آپریشن کے دوران شہید ہونے والے معصوم شہریوں اور بہادر سیکیورٹی اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے اہلِ خانہ سے اظہارِ ہمدردی کیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا بلوچستان میں آپریشن ردّالفتنہ کی کامیاب تکمیل پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے آپریشن ردّالفتنہ کی کامیاب تکمیل پر افواجِ پاکستان کی قیادت، افسران اور جوانوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
وزیراعظم نے آپریشن کے دوران دہشتگردوں کی کمان کی کمر توڑنے اور مجموعی طور پر 216 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جرات اور عزم کو سراہا۔
وزیراعظم نے دہشتگردوں کی جانب سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 36 افراد کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے وطن عزیز کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے 22 سیکیورٹی اہلکاروں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگرد حملے اور بھارت میں ’دھرندھر‘ کی ایک ہی روز ریلیز نے سوالات پیدا کر دیے
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بزدل دہشتگردوں نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کے دشمن ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک اس عفریت کے خلاف جنگ پوری قوت سے جاری رکھی جائے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وطن عزیز کے دفاع کے لیے پوری قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جاتا رہے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا بلوچستان میں آپریشن ردّ الفتنہ-1 میں کامیابی پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں آپریشن ردّ الفتنہ-1 کی کامیابی پر پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے 216 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔
محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں، عزم اور حوصلے کو سراہا اور کہا کہ ان کی شجاعت اور مؤثر کارروائیوں نے بلوچستان میں بدامنی کی سازش کو ناکام بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا انجام عبرتناک موت ہے اور دہشتگردانہ نیٹ ورک کی قیادت اور آپریشنل صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے جام شہادت نوش کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور معصوم شہریوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا ہمارا فخر ہیں اور ان قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے قوم کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے ہر خطرے کے خلاف بھرپور مؤثر کارروائیاں جاری رکھیں گی۔














