پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز لاہور قلندرز نے پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن کے لیے بنگلہ دیش کے نامور فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو براہِ راست معاہدے کے تحت ٹیم میں شامل کرلیا ہے، جس پر 6 کروڑ 44 لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ کی گئی ہے۔
لاہور قلندرز نے جمعرات کو اپنے آفیشل ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بنگلہ دیشی بھائی مستفیض، جو 2016 اور 2018 میں قلندرز کا حصہ رہے، اب براہِ راست سائننگ کے تحت واپس خاندان میں شامل ہو گئے ہیں۔ ایک بار قلندرز، ہمیشہ قلندرز۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈکپ تنازع: بنگلہ دیش نے پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا
مستفیض الرحمان نے رواں سال جنوری کے آغاز میں پی ایس ایل کے لیے رجسٹریشن کروائی تھی، جو انہیں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کے اسکواڈ سے ریلیز کیے جانے کے بعد ممکن ہوئی۔30 سالہ بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر کو دسمبر میں ہونے والی آئی پی ایل منی نیلامی میں کے کے آر نے 9.20 کروڑ بھارتی روپے میں خریدا تھا، اور وہ اس سیزن میں منتخب ہونے والے واحد بنگلہ دیشی کھلاڑی تھے۔ تاہم بعد ازاں بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کی ہدایات پر انہیں اسکواڈ سے فارغ کردیا گیا۔
Fizzzzzz 💚
Our Bangladeshi brother, @Mustafiz90, picked in 2016 and 2018, is now our direct signing and finally back with the family. Once a Qalandar, always a Qalandar. 🫂
Amount spent on DS: PKR 6.44 Crore 💰#Number1TeamForAReason #QalandarDilSe pic.twitter.com/rLMTJB6ybh
— Lahore Qalandars (@lahoreqalandars) February 5, 2026
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان کشیدہ تعلقات کے تناظر میں سامنے آیا، جن کا پس منظر بنگلہ دیش میں اقلیتی برادری پر حملوں سے متعلق رپورٹس کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے ردعمل میں بنگلہ دیش نے ملک میں آئی پی ایل کی نشریات پر پابندی عائد کر دی، جبکہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے ٹی20 ورلڈ کپ کے میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتخابات سے قبل فیس بک ری ایکشنز میں ہیرا پھیری: بوٹس کے منظم استعمال کا انکشاف
آئی سی سی نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو 20 ٹیموں پر مشتمل ٹورنامنٹ میں شامل کرلیا۔
واضح رہے کہ مستفیض الرحمان 2016 سے اب تک آئی پی ایل کے مختلف سیزنز میں 60 سے زائد وکٹیں حاصل کر چکے ہیں اور اس سے قبل بھی وہ لاہور قلندرز کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ ان کی واپسی کو قلندرز کے بولنگ اٹیک کے لیے ایک بڑی تقویت قرار دیا جا رہا ہے۔













