پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے اعلان کیا ہے کہ اگر ٹی20 ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں پاکستان کا مقابلہ بھارت سے ہوا تو ٹیم حکومت پاکستان سے مشورہ لے گی اور ان کی ہدایت کے مطابق عمل کرے گی۔ اس فیصلے کے پس منظر میں بنگلہ دیش کے مقابلے سے انکار اور گروپ اے کے اہم میچ میں بھارت سے نہ کھیلنے کا سیاسی تناؤ بھی شامل ہے۔
گروپ میچز اور حکومت کی ہدایت
سلمان آغا نے کولمبو میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ بھارت کے ساتھ میچ ٹیم کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ یہ حکومت کا فیصلہ تھا اور اگر سیمی فائنل یا فائنل میں ہمیں ان سے کھیلنا پڑا تو ہم ان کے مشورے کے مطابق حرکت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ایس ایل 11 میں ریکارڈ ٹوٹ گیا، اسٹیو اسمتھ سب سے مہنگے کھلاڑی بن گئے
پاکستان نے بنگلہ دیش کے کھیلوں سے انکار کی حمایت کی، جس کے بعد بنگلہ دیش کو گروپ سے خارج کر دیا گیا اور اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ شامل ہوا۔
گروپ مرحلے کی تیاری
پاکستان کو نیمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکہ کے خلاف گروپ مرحلے میں کھیلنا ہے۔ آغا نے کہا کہ ہم اس ٹورنامنٹ میں کھیلنے کے لیے پرجوش ہیں۔ پچھلے ورلڈ کپ میں امریکا سے شکست ہوئی تھی، اب ہم اس مایوسی کو پیچھے چھوڑ کر بہتر کارکردگی دکھانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ موسم کی وجہ سے کسی گروپ میچ کا نقصان پاکستان کی قابلیت پر اثر ڈال سکتا ہے، مگر ٹیم اچھی کرکٹ کھیلنے پر مرکوز ہے۔
سری لنکا میں سہولت اور فارم
پاکستان ٹیم حال ہی میں آسٹریلیا کو 3-0 سے وائٹ واش کر کے آئی ہے۔ آغا نے کہا کہ ہم نے بہت اچھی کرکٹ کھیلی ہے اور گزشتہ سال ایشیا کپ کے بعد سے کوئی سیریز نہیں ہاری۔ سری لنکا ہماری دوسری گھریلو ٹیم کی طرح ہے، چھٹی بار یہاں آ رہا ہوں، حالات جانتے ہیں اور شائقین کی حمایت حاصل ہے۔
بھارت کی تیاری اور مؤقف
دوسری جانب، بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم کولمبو میں پاکستان کے خلاف میچ کے لیے موجود ہوگی، چاہے پاکستان نے کھیلنے سے انکار کر دیا ہو۔ یادو نے کہا کہ ہمارے فلائٹس بک ہیں اور ہم کھیلنے آئیں گے۔ ہر میچ اہم ہے اور کسی ٹیم کو ہلکا نہیں لیا جائے گا۔














