بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے معاون، صوبائی وزرا اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 31 جنوری کو مسلح افراد کے حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے 216 دہشتگرد ہلاک کیے۔ بلوچستان میں حالات اب نارمل ہیں اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیںپاکستان کی انسداد دہشتگردی حکمت عملی عالمی سطح پر موثر قرار دی گئی ہے، وزیر اعظم
صوبائی وزیر صحت کے مطابق 31 جنوری کو بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر حملے کیے گئے، جس میں 22 سیکورٹی اہلکار اور 36 عام شہری شہید ہوئے۔ وزیر اعلیٰ کے معاون شاہد رند نے کہا کہ حملہ آوروں کو ریڈ زون کو نشانہ بنانے سے عوام کی موجودگی نے روک دیا۔
سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں
ایڈیشنل چیف سیکرٹری حمزہ شفقات نے بتایا کہ سرچ آپریشن کے دوران 100 مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جو لوگ دہشتگرد واقعات میں ملوث ہیں، ان کے اہل خانہ اپنی نشاندہی کریں، ورنہ ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

تھانوں سے لوٹ مار کرنے والوں کی شناخت ہو گئی ہے اور جلد ہی ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا۔
جیلوں کی صورتحال
حمزہ شفقات نے بتایا کہ بلوچستان کے دو جیلوں پر حملے ہوئے اور جیلوں سے فرار ہونے والے قیدیوں کی تلاش جاری ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کے مطابق سپرنٹنڈنٹ نوشکی جیل کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آپریشن ردّ الفتنہ-1: بلوچستان میں دہشتگرد نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ، 216 دہشتگرد ہلاک
شاہد رند اور بخت محمد کاکڑ کے مطابق میٹرک کے امتحانات اور پولیو مہم معمول کے مطابق جاری رہیں گی، اور تمام زخمیوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان آئندہ چند دنوں میں اہم پریس کانفرنس کر کے مزید تفصیلات پیش کریں گے۔
کوئٹہ میں آج شام سے موبائل اور انٹرنیٹ سروس بحال کردی جائے گی تاکہ شہری اپنی روزمرہ زندگی بحال رکھ سکیں۔














