بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں جبری گمشدگیوں کا المیہ شدت اختیار کر چکا ہے، جہاں ہزاروں افراد تاحال لاپتا ہیں۔ یہ صورتحال مقبوضہ علاقے میں قابض بھارتی حکام کے مجرمانہ چہرے کو بے نقاب کرتی ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار میں انکشاف ہوا ہے کہ سال 2023 کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں 7,151 افراد لاپتا رپورٹ ہوئے، جن میں سے 4,190 افراد اب تک تلاش نہیں کیے جا سکے۔
یہ اعتراف خود بھارت کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ، بندی سنجے کمار نے راجیہ سبھا کے رکن رندیپ سنگھ سرجے والا کے تحریری سوال کے جواب میں کیا، جو مودی حکومت کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہے۔
اصل تعداد کہیں زیادہ، خوف اور عسکریت کا راج
اگرچہ سرکاری اعداد و شمار خود ہی تشویشناک ہیں، تاہم انسانی حقوق کے حلقوں کے مطابق لاپتا افراد کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ مسلسل عسکری موجودگی، خوف کی فضا، قانون کی کمزوری اور احتساب کے فقدان نے مقبوضہ کشمیر میں عام زندگی کو ایک ڈراؤنا خواب بنا دیا ہے۔
خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر
اعداد و شمار کے مطابق، خواتین اور بچے لاپتا افراد کی بڑی تعداد میں شامل ہیں، جو شہری آبادی کی انتہائی کمزور حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ خاص طور پر بچوں کی گمشدگیوں میں مسلسل اضافہ ایک نہایت تشویشناک رجحان ہے۔
بچوں کے لاپتا ہونے کے کیسز
2020: 627 کیسز
2021: 723 کیسز
2022: 821 کیسز
2023: بدستور بلند سطح
لاپتا بچوں میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے، جس سے انسانی اسمگلنگ، جنسی استحصال اور دیگر سنگین جرائم کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
بازیابی کی شرح مایوس کن
سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2022 میں لاپتا ہونے والے 821 بچوں میں سے صرف 376 کو تلاش کیا جا سکا۔ 445 بچے تاحال لاپتا ہیں۔
یہ صورتحال ہر گزرتے سال کے ساتھ بدتر ہوتی جا رہی ہے اور ہزاروں خاندان کرب اور غیر یقینی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
مجموعی اعداد و شمار: بحران میں مسلسل اضافہ
مقبوضہ جموں و کشمیر میں لاپتا افراد کے مجموعی اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی واضح کرتے ہیں:
2020: 5,824 لاپتا، صرف 2,011 بازیاب
2021: 6,486 لاپتا، 2,526 بازیاب
2022: 6,983 لاپتا، 3,136 بازیاب
2023: 7,151 لاپتا، 4 ہزار سے زائد تاحال لاپتا
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید گھمبیر ہوتا جا رہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر؟
ہزاروں افراد کی عدم بازیابی بھارت کے اس دعوے کی سختی سے تردید کرتی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات معمول پر ہیں۔ لاپتا افراد کی بڑھتی تعداد ایک انسانی المیے کی نشاندہی کرتی ہے، جس پر عالمی برادری کی فوری توجہ ناگزیر ہو چکی ہے۔














