وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ دنیا بھر میں موجود ہے، اور قانون کے مطابق بعض حالات میں سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل بھی ہو سکتا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ وہ خود مسنگ پرسنز کے معاملات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہیں اور اس حوالے سے سنجیدگی سے کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاپتا افراد کے لیے ایک ریلیف پیکج متعارف کرایا گیا اور نئی کمیٹی ان معاملات پر مزید توجہ دے گی۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان بار کونسل انتخابات، عاصمہ جہانگیر گروپ کو پنجاب میں سبقت حاصل
وفاقی وزیر نے دہشت گردی کے دوران ہلاک ہونے والے افراد میں اکثر مسنگ پرسنز شامل ہونے کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ حکومت نے سوشل میڈیا پر توہین مذہب کے کیسز کو روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں ایسے کیسز میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے گھریلو تشدد کے خلاف قانون سازی پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ اسلام آباد کی حد تک اس قانون کو نافذ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اختلاف رائے کا مطلب لڑائی نہیں بلکہ مہذب معاشرے کی نشانی ہے۔
انہوں نے آئینی ترمیم اور ججز کے اختیارات سے متعلق بھی وضاحت دی، کہا کہ سپریم کورٹ نے ماضی میں کئی اہم فیصلے کیے ہیں لیکن پارلیمنٹ ہی عوام کی نمائندہ ادارہ ہے اور قانون سازی کا اختیار رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر تمام سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے مشاورت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: ماما قدیر بلوچ طویل علالت کے بعد 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئے
وفاقی وزیر نے ججز کے تبادلے کے نظام کو بہتر بنانے پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ اگر پنجاب کے ججز کسی صوبے میں خدمات دے سکتے ہیں تو یہ حق دوسرے صوبوں کے عوام کو بھی حاصل ہونا چاہیے۔
اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ وہ ذاتی طور پر سویلین کے ملٹری ٹرائل کے حق میں نہیں ہیں، لیکن نظامِ قانون اور آئین کے تحت جب کوئی ریڈ لائن کراس کرے، جیسے کہ آرمی تنصیبات پر حملہ، تو قانون کے مطابق فوجی عدالتیں ہی مقدمات کا فورم ہوں گی۔














