امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھیں گے ان پر اضافی ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔
جمعے کو جاری کیے گئے حکم نامے میں ٹیرف کی حتمی شرح واضح نہیں کی گئی، تاہم 25 فیصد شرح بطور مثال پیش کی گئی ہے۔ آرڈر کے مطابق یہ محصولات ان تمام ممالک پر لاگو ہو سکتے ہیں جو براہِ راست یا بالواسطہ ایران سے اشیا یا خدمات خریدیں گے اور پھر امریکہ کے ساتھ تجارت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟
صدر ٹرمپ نے حکم نامے پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم ایئر فورس ون میں گفتگو کرتے ہوئے ایران کے لیے ‘کوئی جوہری ہتھیار نہیں’ کا مؤقف دہرایا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمان میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ ٹرمپ نے ان مذاکرات کو ‘انتہائی مثبت’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، بصورت دیگر نتائج سنگین ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ اقدام ایران کے خلاف جاری قومی ایمرجنسی کے تسلسل کا حصہ ہے اور حالات کے مطابق اس میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی تجارت میں ملوث 15 اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران کے جوہری پروگرام پر امریکا سے بالواسطہ مذاکرات، عمان کی ثالثی میں مسقط میں اہم پیشرفت
ایران پہلے ہی امریکی اور مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، جن کے باعث اس کی معیشت شدید دباؤ میں ہے اور خوراک کی مہنگائی 70 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ تہران جوہری ہتھیار بنانے کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اپنے پروگرام کو پُرامن قرار دیتا ہے۔














