ایران کے جوہری پروگرام پر امریکا سے بالواسطہ مذاکرات، عمان کی ثالثی میں مسقط میں اہم پیشرفت

جمعہ 6 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی کے تناظر میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ایک بار پھر شروع ہو گئے ہیں۔ ان حساس بات چیت کی میزبانی اور ثالثی خلیجی ریاست عمان کر رہی ہے، جہاں دونوں ممالک کے وفود نے الگ الگ ملاقاتوں کے ذریعے سفارتی عمل کو دوبارہ پٹری پر لانے کی کوشش کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات: فریقین کا جوہری معاہدے کے لیے فریم ورک تیار کرنے پر اتفاق

عمان کے دارالحکومت مسقط میں جمعہ کے روز امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر بالواسطہ مذاکرات ہوئے، جن میں دونوں ممالک نے براہِ راست آمنے سامنے بیٹھنے کے بجائے عمانی قیادت کے ذریعے رابطہ رکھا۔ عمانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ مشاورت سفارتی اور تکنیکی مذاکرات کی بحالی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر مرکوز رہی۔

ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی، جنہوں نے عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد ایرانی وفد واپس روانہ ہوا، جس کے بعد امریکی وفد کا قافلہ صدارتی محل پہنچا۔ امریکی وفد میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔ دونوں ملاقاتیں الگ الگ ہوئیں، تاہم عمانی حکام نے ثالث کا کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟

عمانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ بات چیت کا مقصد ایسے حالات کی تیاری ہے جن کے تحت جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی کوششوں کو دوبارہ مؤثر بنایا جا سکے، تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا مذاکرات کا یہ دور اسی دن مکمل ہو گیا یا آئندہ سیشنز بھی متوقع ہیں۔

یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب گزشتہ برس اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اور محدود جنگی کارروائیوں کے باعث سفارتی عمل تعطل کا شکار ہو گیا تھا، جبکہ امریکا نے بھی ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ خطے کے عرب ممالک کو خدشہ ہے کہ کسی بڑے فوجی تصادم کی صورت میں پورا مشرقِ وسطیٰ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ ایران ماضی کے تجربات کو ذہن میں رکھتے ہوئے سفارت کاری میں داخل ہوا ہے، اور کسی بھی معاہدے کے لیے برابری، باہمی احترام اور مفادات کا تحفظ ناگزیر ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ میزائل صلاحیتوں اور علاقائی سرگرمیوں پر بھی بات چیت ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عمان کی ثالثی ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان رابطے کا مؤثر ذریعہ بن رہی ہے، تاہم مذاکرات کی کامیابی کا انحصار فریقین کی لچک اور عملی اقدامات پر ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات: بنگلہ دیش کی واحد آئل ریفائنری بند

سعودی عرب کی جانب سے اضافی مالی معاونت کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

’ڈراما انڈسٹری میں پیسے نہیں، اداکار گردے بیچ کر ایمار میں گھر بنا رہے ہیں‘، کنور اسلان کے حٰیران کن بیانات

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا اہم سفارتی دورہ پر آج روانہ ہوں گے

آبنائے ہرمز پر امریکی شکنجہ: ایران کی سمندری تجارت بند، خطے میں کشیدگی اور عالمی معیشت متاثر

ویڈیو

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا