امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے پاس کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ’کافی وقت‘ موجود ہے اور ایران سنجیدگی سے ڈیل کرنا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟
صدر ٹرمپ نے یہ بات ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی، جب وہ ہفتہ وار تعطیلات کے لیے فلوریڈا میں اپنے مارا لاگو ریزورٹ جا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمان میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے دوران ایران سے ’بہت اچھی بات چیت‘ ہوئی ہے اور فریقین کے درمیان اگلے ہفتے دوبارہ ملاقات متوقع ہے۔
🚨 #Pray as we enter a time of war! 🚨
The US drops bombs on Iranian nuclear facilities! America is officially at war!
This one is differenr from all others!
Prophesy unfolding before our eyes!#Iran #israel#USA #TrojanHorse pic.twitter.com/5n5tjahmb3
— SJ (@Sabji_) June 22, 2025
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی مسقط میں ہونے والے مذاکرات کو ’اچھی شروعات‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہو گیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران صرف اپنے جوہری پروگرام پر ہی بات کرے گا اور کسی دباؤ یا دھمکی کے ماحول میں مذاکرات ممکن نہیں۔

ذرائع کے مطابق ایران نے مذاکرات میں یورینیم افزودگی کے اپنے حق پر زور دیا، البتہ افزودگی کی سطح اور معیار پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس کے بدلے ایران نے فوری اور مؤثر پابندیوں کے خاتمے، خصوصاً بینکاری اور تیل کے شعبے میں ریلیف کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا ضبط، ذمہ داری اور مذاکرات پر زور
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ مذاکرات کا دائرہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت اور انسانی حقوق کے معاملات تک بھی بڑھایا جائے، تاہم ایرانی حکام ان نکات کو بات چیت کا حصہ بنانے سے انکار کر چکے ہیں۔
مذاکرات کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ایسے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے جو ایران سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تجارت کرتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایران کی تیل، دھاتوں اور پیٹروکیمیکل آمدن کو محدود کرنا ہے۔

علاقائی اور عالمی طاقتیں خبردار کر رہی ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک نئی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔














