سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے جمع کرائے گئے میمورنڈم کو وصول کرتے ہوئے اس سے متعلق امور متعلقہ انتظامی حکام کو بھجوا دیے ہیں، جبکہ آئندہ ایسے معاملات سے نمٹنے کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقۂ کار (ایس او پیز) بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:راولپنڈی میں دھرنا ختم، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی آج پھر ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے اراکینِ پارلیمنٹ، جن میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا بھی شامل تھے، 30 جنوری 2026 کو اپنے قید رہنما تک رسائی سے متعلق خدشات کے اندراج کے لیے سپریم کورٹ پہنچے تھے۔ رجسٹرار سپریم کورٹ نے ان کے نمائندوں سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ معاملہ چیف جسٹس آف پاکستان کے نوٹس میں لایا جائے گا۔
بعد ازاں پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ کو چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کا موقع دیا گیا، جس میں قید رہنما تک اہلِ خانہ اور طبی ماہرین کی رسائی سمیت دیگر تحفظات پیش کیے گئے۔

چونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت کسی کیس سے براہِ راست متعلق نہیں تھا، اس لیے خدشات کو قانون کے مطابق متعلقہ انتظامی حکام کو ارسال کر دیا گیا، جس کے بعد اجتماع پرامن طور پر منتشر ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ملک میں دہشتگردی کی نئی لہر کے پیچھے پی ٹی آئی ہے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
پریس ریلیز کے مطابق ایک ہفتے تک کسی جواب کے موصول نہ ہونے پر پی ٹی آئی کے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنماؤں پر مشتمل وفد نے 6 فروری 2026 کو دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور دستخط شدہ میمورنڈم جمع کرایا، جسے رجسٹرار سپریم کورٹ نے باضابطہ طور پر وصول کیا۔

اس موقع پر بھی قید رہنما تک رسائی اور طبی رپورٹس سے متعلق خدشات انتظامی حکام کو بھجوا دیے گئے۔
سپریم کورٹ نے مستقبل میں ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے متاثرہ فریقین سے رابطے کے حوالے سے ایس او پیز بھی جاری کیے ہیں، جن میں رسائی، سہولت فراہم کرنے، اور ہنگامی طبی امداد جیسی سہولیات کی فراہمی پر زور دیا گیا ہے، تاہم اس کے ساتھ عدالتی وقار، عدالتی امور اور دیگر سائلین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔














