سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے ڈرون حملے میں مرکزی علاقے میں نقل مکانی کرنے والی ایک گاڑی نشانہ بن گئی، جس میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 8 بچے بھی شامل ہیں
میڈیکل مانیٹرنگ گروپ کے مطابق یہ حملہ ہفتے کے روز شمالی کردفان کے ایک شہر کے قریب ہوا۔
مزید پڑھیں: سوڈان میں باغیوں کا پاور پلانٹ پر حملہ، متعدد علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے
یہ تازہ حملہ شمالی کردفان میں انسانی امدادی قافلوں اور ایندھن کے ٹرکوں پر ڈرون حملوں کی ایک کڑی میں شامل ہے، جس میں جمعہ کو کم از کم ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔
شمالی کردفان کی ریاستی حکومت نے جمعہ کے حملوں کی مذمت کی اور عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے اداروں سے آر ایس ایف کی قیادت پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔
اقوام متحدہ کے ہنگامی انسانی امداد کے دفتر کے مطابق پہلا حملہ صبح سویرے 3 ٹرکوں پر ہوا۔ اس کے بعد اللہ کریم کے علاقے میں دوسرا حملہ ہوا جس میں 4 گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جن میں اقوام متحدہ کے امدادی سامان لے جانے والے ٹرک بھی شامل تھے۔
’پھر 3 ڈرونز نے ایک ٹرانسپورٹ ٹرک اور ایک ایندھن کے ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس سے مزید شہری ہلاکتیں ہوئیں۔‘
سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے بتایا کہ قافلہ نقل مکانی کرنے والی کمیونٹی کو امداد پہنچا رہا تھا جب حملہ ہوا۔ اس گروپ نے اس واقعے کو بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور جنگی جرم قرار دیا، اور مطالبہ کیاکہ آزاد تحقیقات کی جائیں اور انسانی کارکنوں اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے عالمی اقدامات مضبوط کیے جائیں۔
امریکی سینیئر ایڈوائزر برائے عرب اور افریقی امور نے ایک بیان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے حالیہ ڈرون حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ضرورت مندوں کے لیے خوراک کو تباہ کرنا اور انسانی کارکنوں کو ہلاک کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ ہم ذمہ داری کا مطالبہ کرتے ہیں اور متاثرین کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔
سوڈان کی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان جاری خونریز جنگ اب اپنے تیسرے سال میں داخل ہو گئی ہے، جس میں 10 ہزاروں افراد ہلاک اور قریباً 11 ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں قحط کے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: سوڈان میں شہید ہونے والے بنگلہ دیشی فوجی اہلکاروں کی تفصیل جاری
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق سوڈان کے 21 ملین سے زیادہ شہری شدید خوراک کی کمی کا شکار ہیں اور دو تہائی آبادی کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔













