سعودی عرب کی ریلویز نے 2025 میں اپنی کارکردگی کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔ گزشتہ سال کے دوران ریل نیٹ ورک نے 14 ملین مسافروں کو سروس فراہم کی، جو 2023 میں 11.2 ملین مسافروں کے مقابلے میں کافی اضافہ ہے۔
یہ اعداد و شمار سعودی شہریوں اور زائرین میں ریل سفر کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو ظاہر کرتے ہیں، خاص طور پر روزمرہ آمد و رفت اور زیارات کے لیے۔
Saudi Arabia is set to launch the Middle East's first ultra-luxury train, the "Desert Dream Train," with services scheduled to commence in 2026. 🇸🇦🚄 pic.twitter.com/vUJP16ZCjW
— Salman Al-Ansari | سلمان الأنصاري (@Salansar1) December 28, 2025
عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب کی ریلویز نے 2025 میں مجموعی طور پر 30 ملین ٹن مال بھی منتقل کیا۔ اس کے نتیجے میں ملک کی شاہراہوں سے 2 ملین ٹرک کے سفر کم ہوئے، جس سے 139 ملین لیٹر ایندھن کی بچت ہوئی اور تقریباً 364,000 ٹن کاربن کے اخراج میں کمی آئی۔
یہ اقدامات سعودی گرین انیشی ایٹو اور وژن 2030 کے ماحولیاتی ہدف کے لیے اہم پیشرفت ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب میں ٹرین سے سفر کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ
اسی دوران سعودی عرب کی ریلویز نے ’ڈریم آف دی ڈیزرٹ‘ لگژری ٹرین کا بھی افتتاح کیا، جو مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی پہلی لگژری ریل سروس ہے۔ یہ ٹرین ریاض سے القریات تک جاتی ہے اور راستے میں حائل اور الجوف جیسے ثقافتی اور تاریخی مقامات پر رکے گی۔
ٹرین میں 40 لگژری کیبنز ہیں جو کلاسیک اورینٹ ایکسپریس سے متاثر ہیں اور سعودی عرب کی منفرد ثقافت کی جھلک پیش کرتی ہیں۔

سعودی عرب کی ریلویز نے ریل ٹورزم میں جدت اور معیار کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر پہچان بھی حاصل کی ہے۔ اس نے پہلی بار انٹرنیشنل یونین آف ریلویز کا ایوارڈ جیتا، جو طویل فاصلے کی لگژری ٹرین سروسز میں بہترین کارکردگی کے لیے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز سعودی عرب کو عالمی سطح پر ریل ٹورزم کے اہم مرکز کے طور پر منوانے میں مددگار ثابت ہوا۔

یہ اعداد و شمار اور کامیابیاں سعودی عرب کی قومی ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس حکمت عملی کے اہداف کی عکاس ہیں، جس میں نہ صرف سستی اور مؤثر ٹرانسپورٹ بلکہ ماحولیاتی طور پر پائیدار خدمات فراہم کرنا شامل ہے۔













