جنوری 31 کی رات نوشکی میں ایک خاندان کی زندگی ختم ہو گئی جب کالعدم بی ایل اے کے مسلح دہشتگردوں نے معروف خطیب اور استاد مفتی امشاد علی کے گھر پر دھاوا بول دیا۔ اس حملے میں مفتی امشاد علی، ان کی بیوی اور 3 بچے آنیقا (3 سال)، عمر (16 سال) اور طلحہ (14 سال) شہید ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا اقوامِ متحدہ سے بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ، سلامتی کونسل سے فوری اقدام کی اپیل
بی ایل اے کے دہشتگرد جانتے تھے کہ گھر میں خواتین اور بچے موجود ہیں۔ یہ کوئی آپریشن نہیں تھا بلکہ ایک ہدف بنا کر قتل کرنے کی کارروائی تھی۔ مفتی امشاد علی نے آخری لمحے میں اپنے 4 سالہ بیٹے کو ایک بریف کیس میں چھپا دیا اور اسے کہا کہ کچھ نہ بولے، نہ روے، چاہے جو کچھ بھی سنے۔ خود انہوں نے موت کی طرف قدم بڑھایا تاکہ باقی خاندان کو بچانے کی کوشش کریں۔

دہشتگرد گھر میں خون ریزی کے بعد وہاں سے چلے گئے، اور بچہ 2 دن تک بریف کیس میں قید رہا۔ پانی اور خوراک کے بغیر یہ بچہ شدید صدمے اور خوف میں مبتلا رہا۔ جب اسے بالآخر زندہ پایا گیا، تو اس کی حالت ایسی تھی کہ وہ بولنا ہی بھول گیا تھا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ شاید کبھی معمول کی زندگی کی طرف واپس نہ آئے۔
مفتی امشاد علی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ ایک نرم مزاج، سیاسی سرگرمیوں سے دور خطیب اور استاد تھے، جو صرف اپنی کمیونٹی کی خدمت اور تعلیم کے لیے نوشکی منتقل ہوئے تھے۔ ایک اور بیٹی زخمی حالت میں بچ گئی اور اس وقت کوئٹہ میں زیر علاج ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے خلاف سرگرم بی ایل اے کو اسرائیل اور بھارت کی حمایت حاصل، حقیقت آشکار
یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کی تباہی بلکہ بلوچستان میں بی ایل اے کی بربریت اور دہشتگردی کی ایک تلخ یاد دہانی ہے۔ نوشکی جیسے علاقوں سے ایسی کہانیاں عام قومی مباحثوں تک پہنچتی نہیں، لیکن ہر قتل شدہ خاندان کے پیچھے ایک گھر کی خاموشی، ایک بچے کی ذہنی صدمے بھری حالت، اور انسانیت کی پامالی چھپی ہوتی ہے۔














