جمعے کے روز اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں ہونے والے خود کش دھماکے کے بعد تحریک انصاف سے منسلک بعض سوشل میڈیا اکاونٹس نے سیکیورٹی اداروں کے خلاف پراپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔ مختلف پوسٹوں میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ سانحہ پورے انٹیلیجنس نظام کی ناکامی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ترلائی حملہ آور کی تربیت افغانستان میں ہونے کا انکشاف، سرحد پار متعدد سفر بھی کیے
تاہم سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ یہ دعوے حقیقت کے برعکس ہیں۔ ذرائع کے مطابق حالیہ مہینوں میں کراچی اور دیگر شہروں سے سیکڑوں دہشتگردوں کی گرفتاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے مؤثر طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ ترلائی دھماکے میں ملوث ملزم پشاور کا رہائشی تھا، اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر پاکستانی کی نقل و حرکت پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔
دہشتگردوں کی ساری فنڈنگ بھارت کررہا ہے ، کیوں کہ جس دہشتگرد کو پہلے 500 ڈالر مل رہے تھے اسے اب 1500 ڈالر مل رہے ہیں ، ان کو تمام ٹارگٹ بھارت دے رہا ہے ، آج ہم جنازے اُٹھا رہے ہیں ٹھیک ہے دنیا خاموش رہ لے آج نہ بولے لیکن میں آپ سے دعویٰ کررہا ہوں جب یہی تکلیف ان کو ہوگی تو ایک دن… pic.twitter.com/ZtN6apRHL7
— WE News (@WENewsPk) February 7, 2026
سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ انٹیلیجنس کا اصل مقصد خطرات کی شناخت ہے، اور یہ کام کامیابی سے جاری ہے۔ دنیا بھر میں تسلیم شدہ اصول ’کمیونٹی انٹیلیجنس‘ کے مطابق عوام کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہیں، کیونکہ شہری ان اداروں کے آنکھ اور کان ہوتے ہیں۔ عوام کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے محلے، مسجد، مدرسے یا دوستوں کے حلقے میں کسی انتہا پسند یا ریاست مخالف شخص کی شناخت کر کے متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ دہشتگرد ناکام ہو رہے ہیں اور سکیورٹی اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اپنی ذمہ داریاں کامیابی سے انجام دے رہی ہیں۔












