ترلائی حملہ آور کی تربیت افغانستان میں ہونے کا انکشاف، سرحد پار متعدد سفر بھی کیے

ہفتہ 7 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی ایک مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں 31 افراد شہید جبکہ متعدد نمازی زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

رپورٹس کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور کی شناخت کی تصدیق کر لی گئی ہے۔ مستند معلومات کے مطابق حملہ آور نے دہشت گردی کی تربیت افغانستان میں حاصل کی تھی اور وہ متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا تھا اور حال ہی میں افغانستان سے واپس آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، ایک ہلاک، 3 گرفتار

افغانستان میں قائم مختلف خوارج گروہ، جو طالبان حکومت کی سرپرستی میں سرگرم ہیں، خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ حکومتی مؤقف کے مطابق پاکستان میں ہونے والے ہر دہشت گرد حملے کا کسی نہ کسی طور افغانستان اور بھارت سے تعلق پایا جاتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پوری قوم ان بزدلانہ کارروائیوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہے۔ مساجد اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے جیسے گھٹیا اور بزدلانہ حملے پاکستانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیلی پارلیمان میں اذان اور نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کا متنازع بل منظور

ایپل کا 2027 تک 5 نئے آئی فون متعارف کرانے کا منصوبہ، چین سے میموری چپس حاصل کرنے کا بھی امکان

باغبانپورہ  اسکول حادثہ : مریم نواز کا فوری نوٹس، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم

سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ،فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز