لاہور میں 25 برس بعد بسنت کی واپسی ایک تاریخی لمحہ تھی۔ یہ وہ تہوار ہے جو اس شہر کی رگوں میں دوڑتا ہے اور جس کے ساتھ رنگ، موسیقی، دھول، گیت اور اجتماعی خوشی جڑی ہوئی ہے۔ پہلے روز آسمان پر رنگ برنگی پتنگیں، گلیوں میں بچوں کی آوازیں، چھتوں پر خاندانوں کی رونق اور ڈھول کی تھاپ نے یہ احساس دلایا کہ لاہور نے ایک بار پھر خود کو پہچان لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور میں بسنت کی رونقیں عروج پر، نواز شریف بھی ڈور اور گڈا پکڑے جشن میں شریک ہوئے
حکومتِ پنجاب کی جانب سے بھی بسنت منانے کے لیے بڑے پیمانے پر تقریبات کا اعلان کیا گیا تھا۔ لبرٹی چوک میں میگا شو، سرکاری کالجز اور یونیورسٹیوں میں ایونٹس شیڈول تھے اور شہر مکمل طور پر تہوار کے موڈ میں نظر آ رہا تھا۔
اسلام آباد دھماکا، خوشیوں پر اداسی کا سایہ
اسی دوران جمعے کی دوپہر اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی کالاں میں واقع شیعہ امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے دھماکے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ شہدا اور زخمیوں کی خبروں نے خوشیوں کے اس ماحول کو گہری اداسی میں بدل دیا۔
لاہور میں شہری بسنت منانے میں مصروف pic.twitter.com/3KFvWkFUta
— WE News (@WENewsPk) February 7, 2026
لاہور جو کچھ لمحے پہلے قہقہوں سے گونج رہا تھا، اچانک سنجیدہ اور خاموش ہو گیا۔ بسنت کی خوشی ختم نہیں ہوئی، مگر اس کا رنگ ضرور بدل گیا۔
حکومتی ردِعمل، سرکاری تقریبات منسوخ
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سانحے کے بعد ایکس (ٹوئٹر) پر اعلان کیا کہ اسلام آباد واقعے کے پیشِ نظر بسنت سے متعلق تمام سرکاری سرگرمیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد سانحہ: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بسنت سے متعلق اپنی تقریبات منسوخ کردیں
ان کے مطابق قومی سانحے پر یکجہتی کے اظہار کے لیے یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔ لبرٹی چوک پر ہونے والا میگا بسنت شو منسوخ کر دیا گیا، جبکہ سرکاری کالجز اور یونیورسٹیوں میں ہونے والی تمام تقریبات بھی روک دی گئیں۔

مریم نواز نے اپنے بیان میں کہا کہ قوم خوارجی فتنے اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف متحد رہے، ایسے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے اور ملک کے دفاع کے لیے مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ ان کا پیغام پاکستان زندہ باد کے نعرے پر اختتام پذیر ہوا۔
بسنت جاری مگر سادگی کے ساتھ
آج بسنت کا دوسرا روز ہے اور تہوار اب بھی جاری ہے، مگر پہلے دن جیسی گہماگہمی کے بغیر۔ لاہور میں اب نہ کوئی بڑے اسٹیج ہیں، نہ اونچی آواز میں موسیقی اور نہ ہی سرکاری تقریبات۔ اس کے باوجود اندرونِ لاہور، پرانی آبادیوں، گھروں اور پلازوں کی چھتوں پر لوگ خاموشی اور سادگی کے ساتھ بسنت منا رہے ہیں۔
پتنگیں اب بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، مگر ان کے پیچھے وہی جوش نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور ذمہ دار احساس شامل ہے۔
18 سال بعد بسنت کا فیسٹیول بحال ہوا ہے، بسنت کو انجوئے کررہے ہیں ، مریم نواز نے بہت اچھے انتظامات کیے ، ہم نے بھی 2018 میں بسنت منانے کی اجازت دی تھی عمران خان کی بڑی خواہش تھی کہ ہم اس تہوار کو منائیں ، لیکن اس وقت پنجاب حکومت اس حوالے سے کوئی انتظامات نہیں کرسکی ،فواد چوہدری pic.twitter.com/QmujOzfXNY
— WE News (@WENewsPk) February 7, 2026
یہ بسنت خوشی اور غم کے امتزاج کی علامت بن چکی ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ زندگی رکتی نہیں اور تہوار بھی چلتے رہتے ہیں، مگر قومی سانحے کے موقع پر احساس اور ذمہ داری ضروری ہوتی ہے۔ اسی لیے لاہور آج بسنت منا بھی رہا ہے اور ملک کے دکھ میں برابر کا شریک بھی ہے۔
یہ بسنت شاید شور و ہنگامے کی نہیں، بلکہ شعور، یکجہتی اور احساس کی بسنت ہے، جو آج دوسرے روز بھی جاری ہے۔













