سندھ سے آئے مزدوروں کا بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے ہاتھوں قتل، تقسیم کی بھیانک کوشش

ہفتہ 7 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں جاری سیکیورٹی فورسز کے کلیئرنس آپریشن کے دوران ہولناک واقعہ سامنے آیا جب سندھ سے تعلق رکھنے والے 5 بے گناہ مزدوروں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب صوبے میں دہشتگردی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں اور حالیہ دنوں میں متعدد دہشتگرد حملے ناکام بنائے جا چکے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 7 فروری 2026 کو نوشکی کے مختلف علاقوں میں جاری کلیئرنس آپریشن کے دوران 5 مزدوروں کی لاشیں ملی ہیں، جن کا تعلق صوبہ سندھ سے بتایا جا رہا ہے۔ جاں بحق افراد کی شناخت ارشاد احمد ولد یار محمد، ساکن ضلع خیرپور، غلام عباس ولد محمد مراد، شہزاد ولد فیض محمد، سجاد ولد فیض محمد اور کامران ولد اللہ دیوایا، ساکنان ضلع گھوٹکی کے طور پر ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نوشکی، کالعدم بی ایل اے کی وحشیانہ کارروائی میں ایک بچے کے سوا خاندان کے تمام افراد شہید

تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے بعد متعلقہ علاقوں کو منتقل کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ لیکن یہ ہولناک واقعہ پاکستان میں نسل پرستی اور تقسیم کی سازش کی ایک واضح تصویر پیش کرتا ہے۔ دہشتگردوں نے صرف مزدوروں کو نسل یا شناختی کارڈ (CNIC) کی بنیاد پر اپنی درندگی کا نشانہ بنایا کیا، جس سے ایک بار پھر بی ایل اے کا بھیانک چہرہ بے نقاب ہوا۔

یہ واضح ہو چکا ہے کہ کالعدم بی ایل اے پاکستان کا دشمن ہے اور بھارت کی ایجنڈا کے تحت اس نے بلوچستان میں نسلی جنگ اور نفرت پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ یہ وحشتناک قتل عام انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے اور پاکستان کے دفاع اور امن کے لیے ہر شہری کی یکجہتی لازمی ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں شدت اختیار کر چکی ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کے حملے ناکام بناتے ہوئے 3 خودکش بمباروں سمیت مجموعی طور پر 133 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا، جبکہ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کے 15 جوان شہید ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کا بلوچستان حملوں پر پاکستان سے اظہارِ یکجہتی، ذمہ داروں کو سزا دلانے کی حمایت

آئی ایس پی آر کے مطابق کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی کے گردونواح میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں نے امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ان عزائم کو ناکام بنا دیا۔ ان حملوں میں نہتے شہریوں، خواتین، بچوں اور مزدوروں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان بھر میں کلیئرنس آپریشنز جاری رہیں گے اور دہشتگردی کے نیٹ ورک کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’ایپسٹین نے اپنے گھناؤنے راز مجھے بتائے‘ متاثرہ خاتون کے چونکا دینے والے انکشافات

جیفری ایپسٹین کو خفیہ دستاویزات دینے کا الزام، سابق پرنس اینڈریو کی ’زیرِ تفتیش‘ رہائی

نامور فلم ساز گھر میں مردہ پائے گئے، لاش کئی روز تک پڑی رہنے کا انکشاف

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

’عوام کو خشک روٹیاں دکھا کر پچھلے گیٹ سے کھانے منگواتے رہے‘، دھرنے کے دنوں کی منفرد ویڈیو وائرل

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب