کراچی میں الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے سامنے جماعت اسلامی کی جانب سے منعقد کی جانے والی عوامی پریس کانفرنس کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جماعت اسلامی کراچی کے قائم مقام امیر مسلم پرویز، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت متعدد رہنماؤں اور کارکنان کو گرفتار کرلیا۔
گرفتار ہونے والوں میں جماعت اسلامی کے کارکنان انس خان، ابتسام عبرت، عبد الحمید، خالد قریشی، محمد امجد کے علاوہ امرائے اضلاع سفیان دلاور، مدثر حسین انصاری اور دیگر ذمہ داران بھی شامل ہیں۔ گرفتاریوں کا عمل اس وقت شروع کیا گیا جب الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے عوامی پریس کانفرنس جاری تھی۔
مزید پڑھیں: تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ملک گیر احتجاج، محمود خان اچکزئی منظرِ سے غائب
قبل ازیں پولیس اور انتظامیہ نے جماعت اسلامی کو پریس کانفرنس کرنے سے روک دیا تھا، جبکہ عوامی پریس کانفرنس کے لیے لگایا گیا کیمپ بھی اکھاڑ دیا گیا۔
8 فروری کے انتخابات میں دھاندلی کیخلاف جماعت اسلامی کی الیکشن کمیشن کے باھر پریس کانفرنس پولیس نے روک دی کیمپ اکھاڑ دیا اور رکن صوبائی اسمبلی فاروق فرحان اور کراچی کے قائمقام امیر مسلم پرویز سمیت کئی کارکن گرفتار ، تھانے منتقل pic.twitter.com/gcWFeAEDmC
— Faizullah Khan فیض (@FaizullahSwati) February 8, 2026
اس دوران ٹینٹ، اسپیکر اور جنریٹر بھی ضبط کر لیے گئے۔ پولیس کی بھاری نفری الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر موجود رہی اور دفتر کے دونوں اطراف کے راستے بند کر دیے گئے۔
انتظامیہ کی جانب سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے اطراف تمام دکانیں اور ہوٹلز بند کرا دیے گئے جبکہ بعض مقامات پر عام شہریوں کو بھی گرفتار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
اس موقع پر پولیس، انتظامیہ اور جماعت اسلامی کے کارکنان آمنے سامنے آ گئے اور کارکنان کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی۔
ترجمان جماعت اسلامی کراچی نے انتظامیہ کے اقدام کو آئین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی اور پرامن نوعیت کی پریس کانفرنس سے روکنا جمہوری اقدار کی توہین ہے۔ ترجمان کے مطابق جماعت اسلامی ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہ کر جدوجہد کرتی رہی ہے اور عوام کے حقِ رائے دہی اور اظہارِ رائے کو طاقت کے زور پر نہیں روکا جا سکتا۔
ترجمان جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ پرامن عوامی پریس کانفرنس سے خوف اس بات کا ثبوت ہے کہ حق کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن کے مبینہ اقدامات کو چھپانے کے لیے پریس کانفرنس کی اجازت نہیں دی گئی۔
ترجمان نے مزید کہاکہ جماعت اسلامی ایک پرامن اور جمہوری جماعت ہے اور احتجاج کرنا اس کا آئینی حق ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی میں ریلی نکالنے پر امیر جماعت اسلامی منعم ظفر سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج
انہوں نے اعلان کیاکہ اگر سندھ حکومت ریاستی طاقت کا استعمال بھی کرے تو جماعت اسلامی ہر صورت 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دے گی۔
منعم ظفر کا کارکنان کو پُرامن رہنے کی ہدایت
فروری کو انتخابی دھاندلی کے دو سال مکمل ہونے کے موقع پر جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر منعقد کی جانے والی عوامی پریس کانفرنس کے دوران پولیس کارروائی اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی گرفتاری پر امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے سخت ردعمل دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی: پولیس کا جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس پر دھاوا، رکن سندھ اسمبلی سمیت متعدد رہنما گرفتار
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ 8 فروری کو انتخابی دھاندلی کے 2 سال مکمل ہونے پر جماعت اسلامی کراچی کے تحت الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر عوامی پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا، تاہم پریس کانفرنس کے دوران جماعت اسلامی کے دسیوں کارکنان اور ذمہ داران کو گرفتار کر لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، قائم مقام امیر جماعت اسلامی مسلم پرویز سمیت متعدد کارکنان کی گرفتاری پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی فسطائیت کا واضح مظہر ہے۔ منعم ظفر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے پولیس کے ذریعے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے سیاسی آواز کو دبانے کی کوشش کی، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، اسی لیے کارکنان سے اپیل ہے کہ وہ ہر صورت پُرامن رہیں اور جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر ادارہ نور حق پہنچیں۔












