کچے میں جاری ’نجات مہران آپریشن‘ کے دباؤ کے نتیجے میں متعدد سنگین نوعیت کے مقدمات میں مطلوب اور 10 لاکھ روپے انعام یافتہ ڈاکو رب رکہیو ناریجو ولد نظر محمد عرف نظرو ناریجو نے خیرپور پولیس کے سامنے سرینڈر کردیا۔
مزید پڑھیں: سندھ حکومت کا کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا اعلان، قومی دھارے میں شامل ہونے کا آخری موقع
ڈی آئی جی لاڑکانہ، سکھر ناصر آفتاب کی کمانڈ میں جاری مؤثر حکمت عملی اور ایس ایس پی خیرپور ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی قیادت میں کچے کے ڈاکوؤں کو سرینڈر یا پولیس مقابلے کے منطقی انجام کے لیے تیار رہنے کا واضح پیغام دینے کے نتیجے میں یہ کامیابی حاصل ہوئی۔
سرینڈر کرنے والے ڈاکو کے والد نظرو ناریجو جرائم کی دنیا کے بے تاج بادشاہ سمجھے جاتے تھے اور 150 سے زائد سنگین نوعیت کے مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے۔
حکومت کی جانب سے اس کی زندہ یا مردہ گرفتاری کے لیے سب سے بڑی رقم، 2 کروڑ روپے انعام مقرر کی گئی تھی، اور والد پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا، جس میں 2 پولیس اہلکار بھی جام شہادت نوش کر چکے تھے۔
رب رکہیو ناریجو اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، قتل، پولیس مقابلوں سمیت دیگر سنگین جرائم میں انتہائی مطلوب تھا۔ اس نے جرائم کی دنیا سے توبہ کرتے ہوئے نہ صرف خود پولیس کے سامنے سرینڈر کیا بلکہ اپنے دیگر ساتھیوں کو بھی ہتھیار پھینک کر پیش ہونے کا پیغام دیا۔
ایس ایس پی خیرپور ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو نے کہاکہ کچے میں جاری ’نجات مہران آپریشن‘ ڈاکوؤں کے مکمل خاتمے اور علاقے میں امن و امان کی بحالی تک جاری رہے گا۔
مزید پڑھیں: سندھ حکومت کا کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا اعلان، قومی دھارے میں شامل ہونے کا آخری موقع
انہوں نے عوام کی جان و مال کے تحفظ، جرائم کے خاتمے اور علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے پولیس کے عزم کا اعادہ کیا۔














