یومِ سیاہ کے موقع پر تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیرِ اہتمام فیصل مسجد اسلام آباد کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ اور ریلی نکالی گئی، جس میں آئین کی بالادستی، جمہوری اقدار کے تحفظ اور انتخابی مینڈیٹ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرے کی قیادت قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کی۔
یہ بھی پڑھیں:تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ملک گیر احتجاج، محمود خان اچکزئی منظرِ سے غائب
آج 8 فروری کو یومِ سیاہ کے موقع پر تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے فیصل مسجد اسلام آباد کے باہر ایک بھرپور احتجاجی مظاہرہ اور ریلی منعقد کی گئی۔ اس موقع پر انتظامیہ کی جانب سے فیصل مسجد کو غیر معمولی طور پر بند کر دیا گیا اور مختلف راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، تاہم شرکا تمام رکاوٹوں کے باوجود فیصل مسجد کے باہر پرامن طور پر جمع ہوئے اور اپنا آئینی و جمہوری حق استعمال کیا۔

ریلی میں سینیٹر مشاق احمد خان، مصطفی نواز کھوکھر، علامہ احمد اقبال رضوی، ترجمان تحریک تحفظ آئین حسین احمد یوسفزئی، خالد یوسف چوہدری، ملک عامر اعوان، سہیل احمد ستی، ظہیر احمد نقوی، نصیر احمد کیانی ایڈووکیٹ سمیت دیگر سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔
مظاہرین نے ہم آئین بچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو، ایک ریاست 2 دستور نامنظور اور ہمارا مینڈیٹ واپس کرو جیسے نعرے لگائے۔ شرکا نے انتخابی مینڈیٹ کی مبینہ چوری، آئین کی پامالی اور جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
یہ بھی پڑھیں:چٹاگانگ پورٹ پر غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان، تجارتی سرگرمیوں میں ممکنہ رکاوٹ کا خدشہ
احتجاج کے دوران بعض خواتین کارکنان کی گرفتاری بھی عمل میں آئی، جس پر تحریک تحفظ آئین پاکستان نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس اقدام کو آئینی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا اور گرفتار خواتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
ریلی کے اختتام پر قیادت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوامی مینڈیٹ کا احترام ناگزیر ہے۔ رہنماؤں نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو اس آئینی اور جمہوری جدوجہد کو مزید منظم اور وسیع کیا جائے گا۔














