کیا حکومت نے اسٹار لنک کو پاکستان میں کام کرنے کے لیے لائسنس دینے کا عمل روک دیا ہے؟

پیر 9 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت نے امریکی ٹیک کمپنی اسٹارلنک کو پاکستان میں کام کرنے کے لیے لائسنس دینے کا عمل روک دیا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ وہ ڈیٹا سیکیورٹی، نگرانی کے مسائل اور جیو پولیٹیکل خدشات کی وجہ سے اسٹارلنک کو منظوری دینے سے پہلے مزید احتیاط کرنا چاہتی ہے۔

حکام کے مطابق انہیں معلوم ہوا ہے کہ اسٹارلنک کچھ ڈیٹا پاکستان کی نگرانی اور حفاظتی چیک پوائنٹس کو بائی پاس کرتے ہوئے بھیج سکتا ہے، جس سے صارفین کے ڈیٹا کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: جہاز پر اسٹار لنک فری وائی فائی کی سروس شروع، کتنا تیز انٹرنیٹ میسر ہوگا؟

اسٹار لنک کے حوالے سے فی الحال کسی قسم کے خدشات موجود نہیں، عامر شہزاد

ڈی جی لائسنس پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی عامر شہزاد کا کہنا ہے کہ اگر اسٹار لنک یا کوئی بھی اور کمپنی لو آرتھ آربٹ میں سیٹلائٹ سروس فراہم کرنا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے باقاعدہ درخواست دینا ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے 2022 میں ایک پالیسی متعارف کروائی تھی، جس کے بعد اسپیس ایکٹیویٹی ریگولیٹری بورڈ قائم کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ اسپیس ایکٹیویٹی ریگولیٹری بورڈ یہ جائزہ لیتا ہے کہ سیٹلائٹ کس آربٹ میں کام کرے گا اور کیا اس سے کسی موجودہ سیٹلائٹ، کمیونیکیشن سسٹم یا سیکیورٹی معاملات میں کوئی انٹرفیئرنس تو نہیں ہوگی۔ ’اس وقت اسٹار لنک کا کیس اسی بورڈ کے پاس ہے اور وہ مختلف تکنیکی مراحل میں اس کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے۔‘

عامر شہزاد کے مطابق اسٹار لنک کے حوالے سے فی الحال کسی قسم کے خدشات موجود نہیں ہیں۔ نہ تو اسٹار لنک کو اب تک کوئی لائسنس جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی اسے آپریٹ کرنے سے روکا گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیاکہ اسپیس ایکٹیویٹی ریگولیٹری بورڈ میں رجسٹریشن ایک نہایت تکنیکی اور حساس عمل ہے، اسی لیے اس حوالے سے چلنے والی بیشتر خبریں افواہوں پر مبنی ہیں۔

سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کی خواہشمند کمپنیوں کے کیسز زیر غور

انہوں نے مزید بتایا کہ اسٹار لنک کے علاوہ بھی کئی دیگر بین الاقوامی کمپنیاں ہیں جو پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے لیے اپلائی کر چکی ہیں، ان سب کے کیسز زیرِ غور ہیں۔

’جب یہ طے ہو جائے گا کہ کوئی کمپنی پاکستان میں کس آربٹ سے گزرے گی اور کہاں آپریٹ کرے گی، تو اسپیس ایکٹیویٹی ریگولیٹری بورڈ اس کو کلیئرنس دے گا۔‘

انہوں نے کہاکہ اسپیس ایکٹیویٹی ریگولیٹری بورڈ سے منظوری کے بعد متعلقہ کمپنی کا کیس پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے پاس جائے گا، جہاں قانونی، تکنیکی اور صارفین کے ڈیٹا سے متعلق معاملات دیکھے جائیں گے۔ ان تمام مراحل کے مکمل ہونے کے بعد ہی کسی کمپنی کو پاکستان میں باضابطہ لائسنس دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی حال ہی میں اسٹار لنک کے پاکستان کے سی ای او سے بات ہوئی ہے، جنہوں نے یقین دہانی کروائی کہ وہ اسپیس ایکٹیویٹی ریگولیٹری بورڈ کی جانب سے مانگی گئی تمام شرائط اور دستاویزات مکمل کررہے ہیں، اور معاملہ اس وقت باقاعدہ پراسس میں ہے۔

اسٹارلنک کو کام کرنے کی اجازت ملنے کے امکانات کم ہیں، سائبر سیکیورٹی ایکسپرٹ

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سائبر سیکیورٹی ایکسپرٹ حبیب اللہ خان کا کہنا تھا کہ اسٹارلنک کو باضابطہ طور پر پاکستان میں کام کرنے کی اجازت ملنے کے امکانات کم ہیں، اگرچہ یہ حقیقتاً پہلے ہی محدود پیمانے پر ملک میں استعمال ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ اسٹار لنک کی تیسری نسل کی ٹیکنالوجی ہے جو مقامی گراؤنڈ اسٹیشنز کے بغیر بھی کام کر سکتی ہے اور سیٹلائٹ میش کے ذریعے دنیا کے کسی بھی حصے سے کنیکٹ ہو سکتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسٹارلنک ٹرمینلز پر جغرافیائی پابندیاں (Geofencing) موجود ہیں، لیکن 60 دن کے GPS ری چیک کے سقم کی وجہ سے ان کی بلیک مارکیٹ عالمی سطح پر پھیل چکی ہے، اور یہی ٹرمینلز پاکستان جیسے حساس خطوں میں بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔

حبیب اللہ خان کےمطابق اسٹارلنک کے سگنلز کو ٹریک اور جام کیا جا سکتا ہے، مگر مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں۔ روس، چین اور ایران میں اس ٹیکنالوجی کا عسکری اور غیر ریاستی استعمال ایک واضح مثال ہے، خاص طور پر ڈرون حملوں اور سوارم آپریشنز میں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی مغربی سرحد پر موجود سیکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر، بلیک مارکیٹ اسٹارلنک ٹرمینلز کا ممکنہ دہشت گردانہ استعمال ایک بڑا خدشہ ہے، اسی لیے ریگولیٹرز کے لیے اس کی منظوری انتہائی مشکل ہے۔

مزید پڑھیں: اسٹار لنک کو لائسنس حاصل کرنے میں کیوں تاخیر ہو رہی ہے؟

’چینی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی طرف جانا زیادہ محفوظ راستہ سمجھا جا رہا ہے‘

’اگرچہ جاز، پی ٹی سی ایل اور دیگر کاروباری حلقوں نے ماضی میں اسٹارلنک کی آزمائش کی ہے اور شمالی علاقوں میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی شدید ضرورت ہے، مگر موجودہ حالات میں پاکستان کے لیے اسٹارلنک کے بجائے چینی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی طرف جانا زیادہ محفوظ راستہ سمجھا جا رہا ہے۔‘

یاد رہے کہ اسٹارلنک ایسی متعدد کمپنیوں میں سے ایک ہے جو پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ خدمات شروع کرنا چاہتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

ایپسٹین کی موت کی وجہ خودکشی کے بجائے قتل ہے، پوسٹ مارٹم کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کا دعویٰ

ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت میں پاکستانی اسپنر کا خوف، سابق کرکٹر نے اپنی ٹیم کو اہم مشورہ دیدیا

محمد یونس کی طارق رحمان کو مبارکباد، بی این پی کی جیت کو تاریخی قرار دیا

امریکا میں مقیم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش، بھارتی شہری نے اعتراف کرلیا

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟