ہڑتال کے دوران گرفتار شہری پر مبینہ تشدد، وزیر اعلیٰ بلوچستان کا نوٹس، 2 اہلکار معطل

پیر 9 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہڑتال کے دوران گرفتار کیے گئے ایک شہری کو پولیس اہلکار کی جانب سے تھپڑ مارنے کے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور اس پر شدید اظہارِ ناپسندیدگی کیا ہے۔

واقعہ گزشتہ روز چمن میں پیش آیا تھا، تشدد میں ملوث 2 پولیس اہلکار نعمت اللہ اور زین الدین کو معطل کردیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ قانون کی خلاف ورزی ناقابلِ برداشت ہے، تاہم پولیس کا غیر انسانی رویہ بھی کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کو قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے فرائض انجام دینے کا پابند ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: ناکام ہڑتال اور احتجاج پی ٹی آئی کے مستقبل اور اس کے بیانیے کے لیے کتنا تباہ کن؟

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہر شہری کی عزتِ نفس کا تحفظ پولیس کی بنیادی تربیت اور ذمہ داری کا حصہ ہے، اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ واقعے میں ملوث اہلکار کے خلاف شفاف اور فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت قانون کی بالادستی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور اس حوالے سے کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp