ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے چاند پر ’خود بڑھنے والا شہر‘ تعمیر کرنے کے منصوبے کو اپنی اولین ترجیح بنا لیا ہے، جو ان کے بقول آئندہ 10 برس سے کم عرصے میں ممکن ہو سکتا ہے۔
مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اگرچہ مریخ پر شہر بسانا ان کا دیرینہ خواب ہے اور اس پر کام آئندہ 5 سے 7 برس میں شروع کرنے کا ارادہ برقرار ہے، تاہم ’انسانی تہذیب کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے چاند زیادہ تیز اور موزوں راستہ ہے‘۔
یہ بھی پڑھیے: اسپیس ایکس کا سال 2025 میں تاریخی منافع، مالی تفصیلات سامنے آگئیں
ان کا بیان وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ اسپیس ایکس نے سرمایہ کاروں کو بتایا ہے کہ وہ فی الحال چاند کو ترجیح دے گی اور بغیر عملے کے قمری مشن کے لیے مارچ 2027 کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس سے قبل مسک نے عندیہ دیا تھا کہ 2026 کے اختتام تک مریخ پر بغیر عملے کا مشن بھیجا جا سکتا ہے۔
امریکا اس دہائی میں دوبارہ چاند پر انسان بھیجنے کی دوڑ میں چین کے ساتھ سخت مسابقت کا سامنا کر رہا ہے۔ آخری بار 1972 میں اپالو 17 مشن کے دوران انسان چاند کی سطح پر گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: خلانورد کی طبی حالت کے سبب ناسا اسپیس اسٹیشن کا مشن ایک ماہ قبل ختم
حال ہی میں مسک نے اعلان کیا کہ اسپیس ایکس نے ان کی مصنوعی ذہانت کمپنی ایکس اے آئی کو خرید لیا ہے۔ اس معاہدے میں اسپیس ایکس کی مالیت ایک کھرب ڈالر جبکہ ایکس اے آئی کی مالیت 250 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام خلا میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے منصوبوں کو تقویت دے سکتا ہے۔
اسپیس ایکس رواں سال ممکنہ ابتدائی عوامی پیشکش کے ذریعے 50 ارب ڈالر تک حاصل کرنے کی امید رکھتی ہے، جو تاریخ کی سب سے بڑی آئی پی او ثابت ہو سکتی ہے۔














