گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ حالیہ مہینوں میں مہنگائی میں کمی کے باوجود مرکزی بینک سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھے ہوئے ہے، کیونکہ عالمی سطح پر مسلسل غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ مقامی دباؤ کے پیش نظر پیشگی اقدامات اب بھی ناگزیر ہیں۔
یہ بات انہوں نے سعودی وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے اشتراک سے منعقدہ العُلا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مرکزی بینک کے اقدامات بروقت، فعال اور انتہائی مؤثر ہونے چاہئیں تاکہ حتمی اہداف حاصل کیے جا سکیں، کیونکہ مرکزی بینک کے لیے سب سے مشکل مرحلہ پیشگی اقدامات کرنا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں ابھرتی معیشتوں کی العلا کانفرنس 2026 کا آغاز، عالمی اقتصادی چیلنجز پر غور
گورنر نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح حالیہ مہینوں میں کم رہی ہے اور بعض اوقات اسٹیٹ بینک کے مقررہ ہدف 5 سے 7 فیصد سے بھی نیچے آ چکی ہے۔
’ہم شرح سود کو نسبتاً بلند سطح پر رکھے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں حقیقی مؤثر شرح سود کافی زیادہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ شرح سود کم کیوں نہیں کی جارہی اور مرکزی بینک کاروبار و معاشی ترقی کی حمایت کیوں نہیں کر رہا۔
مزید پڑھیں: اپٹما کا مانیٹری پالیسی کمیٹی سے شرح سود میں 400 بیسس پوائنٹس کی کمی کا مطالبہ
انہوں نے وضاحت کی کہ کئی اسٹیک ہولڈرز آنے والی عالمی اور مقامی معاشی تبدیلیوں سے آگاہ نہیں ہوتے، جو مستقبل میں مہنگائی پر اثر ڈال سکتی ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق آج جو حقیقی شرح سود زیادہ محسوس ہو رہی ہے، ممکن ہے آنے والے وقت میں وہ برقرار نہ رہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض اوقات مرکزی بینک کے لیے معاشی عوامل اور دیگر متعلقہ فریقوں کو یہ قائل کرنا مشکل ہوتا ہے کہ بلند شرح سود کسی ممکنہ آئندہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے رکھی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا، شرح سود برقرار
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اسٹیٹ بینک نے 2026 کی پہلی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
مذکورہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے برعکس تھا، کیونکہ مارکیٹ شرح سود میں کمی کی توقع کر رہی تھی۔
تاہم جمیل احمد نے کہا کہ اختیار کی گئی پالیسیوں کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک اپنی ساکھ بحال کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔
’اگر پیشہ ورانہ تجزیہ کاروں کو دیکھیں تو سب یہی کہہ رہے ہیں کہ اس سال اور اگلے سال مہنگائی 5 سے 7 فیصد کی حد میں رہے گی۔ یہی ہماری ساکھ ہے کہ جو ہم کہتے ہیں، مارکیٹ اس پر یقین کرتی ہے۔‘














