وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وزارتِ اعلیٰ سنبھالنے کے بعد کارکنوں کو فعال کرنے اور عمران خان کی رہائی کے لیے ممکنہ احتجاج کی غرض سے ملک گیر اسٹریٹ موومنٹ کی بات کی تھی، تاہم 8 فروری کے شٹر ڈاؤن احتجاج کے دوران وہ منظرِ عام سے غائب رہے۔
وزیراعلیٰ کی آفیشل میڈیا ٹیم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے تاحال وزیراعلیٰ کی شٹر ڈاؤن احتجاج میں شرکت سے متعلق کوئی بیان یا وضاحت جاری نہیں کی گئی۔ تاہم پارٹی کے سوشل میڈیا سے وابستہ ایک رہنما نے تصدیق کی ہے کہ سہیل آفریدی نے احتجاج میں شرکت نہیں کی۔
وزیراعلیٰ کی شرکت شیڈول میں شامل نہیں تھی
سوشل میڈیا سے وابستہ رہنما کے مطابق سہیل آفریدی نے 8 فروری کے احتجاج کے لیے مکمل مہم چلائی اور کارکنوں کو فعال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ وزیراعلیٰ خود احتجاج میں کیوں شریک نہیں ہوئے تو ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے لیے جو نام آئے تھے، ان میں سہیل آفریدی کا نام شامل نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: 8 فروری کو احتجاج کی کال عمران خان کی طرف سے نہیں، علیمہ خان نے واضح کردیا
احتجاج میں شرکت کے حوالے سے سوشل میڈیا کو کچھ نہیں بتایا گیا تھا، یعنی وزیراعلیٰ کے شیڈول میں یہ شامل نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں تمام قائدین نکلے اور احتجاج میں بھرپور شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی نے تمام منتخب اراکین کو ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ اپنے اپنے حلقوں اور اضلاع میں احتجاج کی قیادت کریں۔ تمام اضلاع میں مظاہرے ہوئے، لوگ نکلے۔ پنجاب اور دیگر صوبوں میں لوگ نہیں نکلے تو اس میں ہمارا کیا قصور؟
سہیل آفریدی احتجاج کی خود نگرانی کر رہے تھے
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ایک ٹیم ممبر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وزیراعلیٰ ہر لمحہ احتجاج کی صورتحال پر اپ ڈیٹس لے رہے تھے اور پورے صوبے میں قائدین سے رابطے میں رہ کر خود نگرانی کر رہے تھے۔
ان کے مطابق وزیراعلیٰ نے احتجاج کو کامیاب قرار دیا اور شرکت کرکے اسے کامیاب بنانے والوں کو فون کرکے حوصلہ افزائی کی، جبکہ جن اراکین اور قائدین نے شرکت نہیں کی، ان پر ناراضی کا اظہار بھی کیا۔
وزیراعلیٰ نے احتجاج میں شرکت کیوں نہیں کی؟
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 8 فروری کے احتجاج کے حوالے سے متعدد اجلاس کرکے منصوبہ بندی کی تھی اور تمام قائدین اور منتخب اراکین کو زیادہ سے زیادہ کارکنان نکالنے کی ہدایت کی تھی، لیکن عین وقت پر وہ خود غائب ہو گئے۔ پشاور کے چوک یادگار میں موجود پارٹی کے ایک کارکن نے بتایا کہ انہیں امید تھی کہ سہیل آفریدی پشاور میں احتجاج میں شریک ہو کر خطاب کریں گے، مگر انہوں نے کارکنوں کو مایوس کیا۔ ہماری معلومات کے مطابق وہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں تھے اور یہاں آنے کی زحمت نہیں کی۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک پارٹی رہنما نے بتایا کہ احتجاج کی کامیابی کا دار و مدار قائدین پر ہوتا ہے، مگر 8 فروری کے احتجاج میں اہم قائدین غائب رہے۔ ان کے مطابق انہیں بتایا گیا تھا کہ سہیل آفریدی، بیرسٹر گوہر، محمود خان اچکزئی اور دیگر رہنما بھی شریک نہیں ہوئے۔
جب قائدین خود نہیں نکلے تو کارکنوں سے شکوہ کرنا ناجائز ہے
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی عدم شرکت سے پارٹی کے اندر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں اور یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ اگر سہیل آفریدی بھی مقتدر حلقوں سے مل گئے ہیں تو پھر علی امین گنڈاپور کو تبدیل کرنے کا فائدہ کیا ہوا؟
مزید پڑھیں: 8 فروری احتجاج: ملک بھر میں پہیہ چلتا رہا جبکہ اپوزیشن قیادت غائب رہی
سہیل آفریدی کی عدم شرکت، کیا کسی ڈیل کا نتیجہ ہے؟
سہیل آفریدی کے حالیہ بیانات اور سرگرمیوں سے پہلے ہی پارٹی کے اندر بے چینی پائی جا رہی تھی، اب احتجاج میں عدم شرکت سے معاملات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ پارٹی رہنما اس معاملے پر تحفظات رکھتے ہیں لیکن کھل کر بات کرنے کو تیار نہیں۔
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعلیٰ اب وفاق اور اداروں کے ساتھ حالات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور وزیراعظم سے ملاقات اور اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حالات بہتری کی جانب جا رہے ہیں۔
سینیئر صحافی و تجزیہ کار عارف حیات کے مطابق کچھ سہیل آفریدی مان گئے ہیں اور کچھ طاقتور حلقے، جس کے بعد سہیل آفریدی نرم مؤقف اختیار کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق اب سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات کے امکانات بھی پیدا ہو گئے ہیں، اور احتجاج میں عدم شرکت اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔














