ملائیشیا کی ایک عدالت نے سوشل میڈیا پر توہین آمیز اور اشتعال انگیز مواد شائع کرنے کے جرم میں 23 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر تانگ سی لوک پر 40 ہزار ملائیشین رنگٹ (تقریباً 28لاکھ 45ہزار 360 روپے) جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ عمل خیرات نہیں بلکہ انسانی وقار کے خلاف ایک دانستہ استحصالی اقدام تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تانگ سی لوک نے 3 اگست 2025 کو چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ڈویئن پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی جسے بعد ازاں انسٹاگرام پر بھی شیئر کیا گیا۔ ویڈیو میں تین نوعمر لڑکوں کو دکھایا گیا جو فاسٹ فوڈ کے ایک ڈبے سے مرغی کھانے کے بعد ہڈیوں کو چاول کے ساتھ ملا کر ایک بے گھر شخص کو دیتے ہیں۔ ویڈیو کے آغاز میں وائس اوور کے ذریعے اس عمل کو ’نیکی‘ قرار دیا گیا تھا۔
View this post on Instagram
ویڈیو منظر عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر شدید عوامی ردِعمل سامنے آیا اور صارفین نے اسے بے گھر شخص کی توہین اور انسانی وقار کی پامالی قرار دیا۔ استغاثہ کے مطابق متاثرہ شخص نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس واقعے سے خود کو شدید طور پر ذلیل اور غصے میں محسوس کر رہا ہے۔
ملائیشین کمیونیکیشنز اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن کے ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام خیراتی سرگرمی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر شہرت اور توجہ حاصل کرنے کے لیے انسانی تکلیف کا استعمال تھا لہٰذا اس پر سخت اور عبرت ناک سزا عائد کی جانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا انفلوئنسر کی پُراسرار موت، پولیس نے تحقیقات میں کیا انکشاف کیا؟
ملزم نے بغیر کسی قانونی نمائندگی کے عدالت میں پیش ہو کر جرم کا اعتراف کیا اور کم سے کم جرمانے کی درخواست کی، ساتھ ہی اپنے عمل پر ندامت اور معذرت کا اظہار کیا۔ عدالت نے جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں چار ماہ قید کی سزا بھی سنائی تاہم اطلاعات کے مطابق ملزم نے فیصلہ سنائے جانے کے فوراً بعد جرمانے کی رقم ادا کر دی۔
واقعے کے بعد تانگ سی لوک نے مذکورہ ویڈیو حذف کر دی اور سوشل میڈیا پر عوامی معافی جاری کی تاہم اس کے باوجود عوامی حلقوں کی جانب سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ متعدد صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ بے گھر شخص سے براہِ راست معافی مانگی جائے اور محض بیانات کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے اپنی ندامت ثابت کی جائے۔














