سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ اور سینیئر صحافی نے افغانستان کی حکومت اور کرکٹ ٹیم کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ برادر ملک کی حیثیت سے افغانستان کا ساتھ دیا، لیکن اس کے باوجود مناسب ردعمل نہیں ملا۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کی ٹیم کے کوچز میں ماضی میں پاکستانی کوچز اور فاسٹ بولرز بھی شامل رہے ہیں، اور پاکستان نے انہیں نہ صرف تکنیکی معاونت فراہم کی بلکہ آؤٹ آف دی وے جا کر میچز کھیلنے میں بھی مدد دی۔ ان کے مطابق ان کے چیئرمین شپ کے دور میں افغان حکام نے مالی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان سے سیریز کھیلنے کی درخواست کی تاکہ انہیں مالی فائدہ حاصل ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیے: کرکٹ میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، بابر اعظم کی افغان ٹیم کو جیت پر مبارکباد
سابق چیئرمین کا کہنا تھا کہ بائی لیٹرل سیریز میں یکطرفہ مالی فائدہ دینا اصولوں کے خلاف تھا، تاہم برادرانہ تعلقات کے پیشِ نظر پاکستان نے شارجہ میں میچز کھیلنے پر آمادگی ظاہر کی تاکہ افغانستان کو مالی معاونت مل سکے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ شارجہ میں ہونے والے میچز کے دوران افغان تماشائیوں کی جانب سے ہنگامہ آرائی کی گئی، جس پر مقامی حکام نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے بقول صورتحال اس قدر خراب ہوئی کہ دونوں ممالک کے شائقین کو الگ الگ اسٹینڈز میں بٹھانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایشین کرکٹ کونسل کی میٹنگز میں بھی افغانستان اکثر بھارتی کرکٹ بورڈ کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے اور پاکستان کے مؤقف کی حمایت نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ یہ مؤقف اپناتا رہا ہے کہ سیاست کو کرکٹ سے دور رکھا جائے اور کھیل کو اصولوں کے مطابق آگے بڑھایا جائے، تاہم دوسری جانب سے یہی اصول مدنظر نہیں رکھے جاتے۔
یہ بھی پڑھیے: ’افغانستان کرکٹ ٹیم نے پاکستان کو بتایا کہ کھیلتے اور جیتتے کیسے ہیں‘
سابق چیئرمین نے کہا کہ اگر پاکستان کے ساتھ یہی رویہ رکھا جائے گا تو ردعمل بھی اسی نوعیت کا ہو سکتا ہے، لیکن پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھا جائے اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے۔














