چین نے امریکا کے خفیہ جوہری تجربات کے الزامات کی سخت سے تردید کردی ہے۔
پیر کے روز امریکا کے الزامات کی تردید کی کہ اس نے خفیہ جوہری تجربات کیے، چین نے الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے واشنگٹن پر اپنے تجربات شروع کرنے کے بہانے تراشنے کا الزام عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے امریکی صدر کے ایٹمی تجربات کے دعوے کو بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا
چین کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’امریکی الزامات بالکل بے بنیاد اور جھوٹ ہیں۔ چین سختی سے امریکا کی اپنی جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کے لیے بہانے تراشنے کی کوشش کی مخالفت کرتا ہے، چین نے واشنگٹن سے فوری طور پر غیر ذمہ دارانہ اقدامات بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
یاد رہے کہ اکتوبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ واشنگٹن ماسکو اور بیجنگ کے برابر جوہری ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کرے گا، تاہم انہوں نے اس نوعیت یا طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کا زیرِ زمین جوہری تجربات کو خارج از امکان قرار دینے سے انکار
یاد رہے کہ جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی غیر جوہری ہتھیاروں کی کانفرنس میں امریکا کے زیرِ صدارت اسلحہ کنٹرول کے لیے سیکریٹری تھامس ڈِنانو نے چین پر 22 جون 2020 کو تجربات کرنے اور بڑے جوہری تجربات کی تیاری کا الزام عائد کیا تھا۔
تھامس ڈِنانو کے بیانات اس وقت سامنے آئے جب وہ امریکا کے نئے منصوبے کا اعلان کررہے تھے، جس کے تحت روس اور چین کے ساتھ 3 فریقی مذاکرات کے ذریعے نئے جوہری ہتھیاروں کی حد بندی طے کی جائے، جبکہ واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان آخری اہم معاہدہ گزشتہ جمعرات کو ختم ہوچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا ٹرمپ پر دوغلے پن کا الزام، جوہری تجربات کے اعلان کی مذمت
چین نے پہلے ہی کہا ہے کہ وہ اس مرحلے پر غیر جوہری ہتھیاروں کے مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔













