بنگلہ دیش اور امریکا نے باہمی ٹیرف سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کردیے ہیں، جسے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر بنگلہ دیش کی جانب سے مشیر برائے تجارت شیخ بشیر الدین اور قومی سلامتی کے مشیر خلیل الرحمان نے دستخط کیے، جبکہ امریکا کی نمائندگی امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے کی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش اور امریکا 9 فروری تک دوطرفہ تجارتی معاہدے پر اتفاق کرلیں گے، سیکریٹری تجارت
اس معاہدے پر مذاکرات کا آغاز گزشتہ برس اپریل میں ہوا تھا، جو 9 ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہے۔
مشیر برائے تجارت شیخ بشیر الدین نے اس معاہدے کو ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ بنگلہ دیش اور امریکا کے درمیان معاشی اور تجارتی تعلقات کو ایک تاریخی طور پر نئی سطح پر لے جائے گا، جبکہ اس سے دونوں ممالک کی منڈیوں تک باہمی رسائی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
معاہدے کے تحت امریکا بنگلہ دیشی مصنوعات پر عائد ٹیرف کو کم کرکے 19 فیصد کر دے گا۔ اس سے قبل یہ ٹیرف 37 فیصد مقرر تھا، جسے گزشتہ سال اگست میں کم کرکے 20 فیصد کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ امریکا نے ایک خصوصی میکنزم متعارف کرانے کا بھی عزم کیا ہے، جس کے تحت امریکا میں تیار کردہ کپاس اور مصنوعی فائبرز سے بنی مخصوص بنگلہ دیشی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی مصنوعات کو صفر باہمی ٹیرف پر امریکی مارکیٹ تک رسائی دی جائے گی۔
قومی سلامتی کے مشیر خلیل الرحمان جنہوں نے بنگلہ دیش کی جانب سے مذاکرات کی قیادت کی، کا کہنا تھا کہ ٹیرف 20 فیصد سے کم ہو کر 19 فیصد تک آنے سے بنگلہ دیشی برآمد کنندگان کو مزید فوائد حاصل ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ مخصوص ملبوسات کو ڈیوٹی فری رسائی ملنے سے بنگلہ دیش کی گارمنٹس انڈسٹری کو بڑا فروغ ملے گا، جو ملک کی برآمدی معیشت کا ایک اہم ستون ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا سے تجارتی مذاکرات، بنگلہ دیش کے لیے نئے مواقعوں کے امکانات روشن
یہ معاہدہ پیر کے روز بنگلہ دیش کی کونسل آف ایڈوائزرز سے منظور کیا گیا، جبکہ دونوں ممالک کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد یہ معاہدہ نافذ العمل ہو جائے گا۔














