جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی عاصم اسلم کی عدالت میں گل پلازہ سانحے سے متعلق سماعت کے دوران اہم پیش رفت ہوئی، جب کیس کے 4 عینی شاہدین نے اپنا سیکشن 164 کا بیان قلمبند کرایا۔ عدالت نے گواہان کے بیانات کو کیس کے ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔
مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام، نوٹیفکیشن جاری
کیس کے عینی شاہدین میں 3 دکاندار اور ایک 13 سالہ طالب علم شامل ہیں۔
13 سالہ گواہ آریان نے عدالت میں بتایا کہ 17 جنوری کو وہ حظیفہ کو الوداع کہنے گئے، جو اپنے والد کی دکان پر بیٹھا تھا اور ماچس سے کھیل رہا تھا۔ آریان کے مطابق حظیفہ کے پاس 2 ماچس کے ڈبے تھے اور وہ دوکان پر اکیلا تھا۔
آریان نے کہا کہ وہ شام 5 بجے پہنچے اور ساڑھے 8 بجے تک وہاں رہے، اس کے بعد وہ اپنے والد کی دوکان پر گئے جہاں صمد کے ساتھ کھیل رہے تھے۔
آریان نے مزید کہاکہ صمد آگ لگنے کے نتیجے میں جاں بحق ہوگیا۔ آریان نے عدالت کو بتایا کہ رات 10 بجے دوبارہ حظیفہ کو الوداع کہنے گئے، تب وہ ماچس سے کھیل رہا تھا جس سے آگ بھڑک گئی۔
آریان کے مطابق حظیفہ پہلے بھی ایسا کر چکا تھا اور دوکان کے مالک نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی، لیکن آگ بڑھ گئی۔
گواہ طلحہ نے بیان دیا کہ 17 جنوری کو اپنی دوکان پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک فلاور کی دوکان میں آگ لگ گئی۔ ابتدائی طور پر انہوں نے آگ بجھانے کی کوشش کی، لیکن آگ کی شدت زیادہ ہونے کی وجہ سے اپنی جان بچانے کے لیے وہ وہاں سے نکل گئے۔
گواہ ولید نے عدالت کو بتایا کہ ہفتے کے دن اپنی دوکان میں بیٹھے تھے کہ بچوں کے لڑنے کی آواز کے بعد آگ لگ گئی۔
مزید پڑھیں: بلدیہ فیکٹری سے سانحہ گل پلازہ تک، انتظامات میں بہتری نہ آسکی
ولید کے مطابق آگ میں شدت کے باعث وہ فلاور کو ہٹانے کی کوشش نہیں کر سکے کیونکہ وہ نٹ بولٹ کے ساتھ جڑا ہوا تھا، اور دھواں پھیلنے کے بعد وہ مارکیٹ سے باہر نکل گئے۔
گواہ حمزہ نے بیان دیا کہ 17 جنوری کو دوکان نمبر 193 میں آگ لگ گئی، پانی ڈالنے کے باوجود آگ کی شدت میں کمی نہیں آئی اور آخرکار وہ باہر کی طرف بھاگ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔














