جاپان اور پاکستان کے درمیان تجارتی اور صنعتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کے ساتھ ’جاپان پاکستان بزنس سیمینار 2026 ‘ کا انعقاد منگل کے روز سرینا ہوٹل اسلام آباد میں کیا گیا۔
سیمینار کی میزبانی پاکستان میں جاپان کے سفیر اکاماتسو شوئچی نے کی۔
تقریب میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے، جبکہ پاکستانی حکام، کاروباری شخصیات، جامعات، جاپان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اراکین، جائیکا (JICA)، جیٹرو (JETRO) اور مختلف جاپانی کمپنیوں کے نمائندگان سمیت تقریباً 100 افراد نے شرکت کی۔
جاپانی آٹو انڈسٹری کا نمایاں کردار
اپنے خطاب میں سفیر اکاماتسو شوئچی نے کہا کہ جاپانی آٹو موبائل کمپنیوں نے پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں اور مقامی سطح پر آٹو پارٹس کی تیاری کے لیے مضبوط سپلائی چین قائم کی ہے۔ ان کے مطابق پرزہ جات کی لوکلائزیشن کی شرح 60 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش اور جاپان کے درمیان دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کا معاہدہ
انہوں نے کہا کہ جاپانی کمپنیاں صنعتی اپ گریڈیشن اور ماحولیاتی اثرات میں کمی کے لیے جدید ٹیکنالوجی میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہی ہیں، اور پاکستان کی معیشت میں ان کا کردار آئندہ بھی اہم رہے گا۔
حکومتِ پاکستان کا اظہارِ تشکر
مہمانِ خصوصی ہارون اختر خان نے پاکستان کی معیشت میں جاپان کی خدمات کو سراہتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سیمینار دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور صنعتی روابط میں اضافے کا باعث بنے گا۔
سیشن اول: جاپان کی معاشی ترقی کا ماڈل
پہلے سیشن میں ماہرین نے جاپان کی معاشی ترقی کے عوامل اور پاکستان کے ساتھ کاروباری تعلقات کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ جاپان میں قلیل مدتی منافع کے بجائے انسانی وسائل کی تعلیم و تربیت میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی جاتی ہے، جو طویل المدتی معاشی استحکام کا باعث بنتی ہے۔
شرکا نے اس امر پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ پاکستان جاپان کے تجربات سے سیکھ کر اپنی صنعتی ترقی کو کیسے تیز کر سکتا ہے۔
سیشن دوم: آٹو سیکٹر میں جدید رجحانات
دوسرے سیشن میں جاپانی آٹو موبائل کمپنیوں اور پاکستانی آٹو پارٹس سپلائرز نے شرکت کی۔ مقررین نے اعلیٰ معیار کی مستحکم پیداوار کے لیے کائیزن، 5S اور ملازمین کی تربیت کو بنیادی ستون قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے جاپان نے پاکستانی اساتذہ کے لیے ٹریننگ اسکالرشپ پروگرام کا اعلان کر دیا
اس موقع پر ہائبرڈ گاڑیوں کے فروغ، پیٹرول کے استعمال میں کمی کے لیے بایو گیس ایندھن میں سرمایہ کاری اور روڈ سیفٹی کے معیار کو بہتر بنانے جیسے موضوعات پر بھی گفتگو ہوئی۔
سیمینار کے اختتام پر اس امید کا اظہار کیا گیا کہ جاپان اور پاکستان کے درمیان صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جو دونوں ممالک کے لیے معاشی استحکام اور ترقی کا باعث بنیں گے۔













