گجرات کے گاندھی نگر میں عدالت نے صحافی روی نائر کو ایڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ کی جانب سے دائر ہتک عزت کیس میں مجرم قرار دیتے ہوئے ایک سال قید اور 5 ہزار روپے جرمانہ سنایا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ نائر نے سوشل میڈیا پر شائع شدہ ٹوئٹس اور آن لائن آرٹیکل میں کمپنی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والی بے بنیاد باتیں کیں، جو جائز تنقید سے آگے تھیں۔
مزید پڑھیں: ہتک عزت کیس: برطانوی عدالت نے عادل راجا پر مزید جرمانہ عائد کردیا
عدالت نے کہا کہ نائر کی پوسٹس نے ایڈانی گروپ کے خلاف بے بنیاد اور حوالے کے بغیر الزامات لگائے، جس میں بدعنوانی، حکومتی اداروں کا غلط استعمال اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی جیسے سنگین الزامات شامل تھے، اور ان کا مقصد کمپنی کی ساکھ کو عوام اور سرمایہ کاروں کے سامنے خراب کرنا تھا۔ دفاع نے ان پوسٹس کو عوامی مفاد میں جائز صحافتی تنقید قرار دینے کی کوشش کی، لیکن عدالت نے اسے مسترد کردیا۔
STORY | Journalist Ravi Nair convicted in Adani defamation case
The magistrate court in Mansa, Gandhinagar, has convicted journalist Ravi Nair in a criminal defamation case and sentenced him to a year’s imprisonment and imposed a fine. The case followed a complaint filed by… pic.twitter.com/GqWznKDKu8
— Press Trust of India (@PTI_News) February 10, 2026
یہ فیصلہ بھارتی سوشل اور روایتی میڈیا پر شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، جس میں کچھ حلقے اسے صحافت اور اظہار رائے پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اسے ساکھ کے تحفظ اور قانونی حدود کے نفاذ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کو جنسی زیادتی اور ہتک عزت کے الزام میں 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم
روی نائر کی سزا پر بھارتی دوغلا پن بھی ظاہر ہوگیا، ایک طرف سوشل میڈیا پر پاکستانی وکیل ایمان مزاری کی گرفتاری پر بھارتی صارفین شدید پروپیگنڈا کر رہے تھے اور اسے اظہار رائے پر قدغن قرار دیے رہے تھے، مگر روی نائر کی سزا پر وہی حلقے اب خاموش ہیں۔














